دہلی:۔ مہنگائی پر آج لوک سبھا میں شدید ہنگامہ ہوا، اپوزیشن نے متحد ہوکر مودی سرکار کو گھیرا، اس سے قبل لوک سبھا نے پیر کو ایک قرارداد منظور کی جس میں ایوان سے معطل ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کو منسوخ کیا گیا۔پیر کو لوک سبھا میں مہنگائی پر بحث سے پہلے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اپوزیشن کے معطل ممبران پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر کے کام کرنے کے انداز کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن عوامی مفاد کے تمام مسائل پر بات کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم بعض اوقات ہمیں زور سے مسائل اٹھانے پڑتے ہیں اور اپنی بات کے لیے احتجاج بھی کرنا پڑتا ہے۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر تمام اراکین کو خبردار کیا کہ ویل کے سامنے پلے کارڈ دکھانا ایوان کے وقار کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر آئندہ کسی نے ایسا کیا تو قواعد کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بھی اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے بنائے گئے قواعد پر عمل کرنے پر زور دیا اور معطلی واپس لینے کی تحریک پیش کی جسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔اس سے قبل لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا کے دفتر میں تمام پارٹیوں کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اجلاس میں معطل ارکان کی معطلی منسوخ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔بعدازیں مہنگائی پر لوک سبھا میں آج بحث کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جواب دیا لیکن اس سے ناراض کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے سیتا رمن کے خطاب کے دوران ہی ایوان چھوڑ کر چلے گئے۔ اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان کی اکنامی نہ صرف دنیا کے کئی ممالک سے بہتر حالت میں ہے بلکہ یہ تیزی سے بڑھتی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں ’مندی‘ (کساد بازاری) کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بلوم برگ کے سروے کے مطابق ہندوستان میں مندی (کساد بازاری) کااندیشہ صفر ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں وزیر خزانہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ مہنگائی پر بحث کے دوران صرف سیاسی باتیں کی گئی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ اس دوران ۳۰ ممبران نے بڑھتے داموں پر بات کی لیکن اعدادوشمار پیش کرنے کے بجائے صرف سیاسی مسئلوں پر ہی بولتے رہے۔ مہنگائی کے مسئلہ پر بحث کے دوران پیر کو لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے پہلے کچا بیگن دکھایا اور پھر اس میں سے ایک بائٹ کاٹ لیا۔ کاکولی گھوش نے کہا کہ میں قیمتوں میں اضافے پر بحث کی اجازت دینے کے لیے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس پر بحث ہونے میں بھی کافی وقت لگا ہے۔کاکولی گھوش نے کہا، "کیا حکومت چاہتی ہے کہ ہم کچی سبزیاں کھائیں”، پھر انہوں نے ایک بیگن دکھایا۔ یہ بتانا کہ ان کا مطلب ہے کہ ایل پی جی اتنی مہنگی ہے کہ اسے خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ‘گزشتہ چند مہینوں میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں چار بار اضافہ کیا گیا ہے۔ 600 روپے سے اب یہ 1100 روپے ہو گیا ہے۔ ایم پی نے کہا کہ سلنڈر کی قیمت کم کی جانی چاہئے۔ پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان حکومت نے پیر کو کہا کہ مہنگائی کے مسئلہ پر منگل کو دونوں ایوانوں میں بحث کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اس مسئلہ پر لوک سبھا میں آج بھی بحث ہو سکتی تھی، لیکن اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے دونوں ایوانوں کی کارروائی کے دوسرے التوا کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت مہنگائی پر بحث کے لیے شروع سے ہی تیار تھی، لیکن اپوزیشن نے بغیر کسی وجہ کے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ پرہلاد جوشی کے ساتھ راجیہ سبھا میں قائد ایوان اور وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل بھی موجود تھے۔لوک سبھا میں اپوزیشن کے ارکان نے جھارکھنڈ اور گجرات کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے صبح کی کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع کر دیا۔ پیوش گوئل نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو کووڈ انفیکشن ہوا ہے۔ ان کی صحت یابی کے بعد حکومت مہنگائی کے معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار تھی لیکن اپوزیشن ایوان کو چلنے نہیں دے رہی تھی۔ اس سے قبل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مختلف مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک اور پھر دوپہر 2 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔راجیہ سبھا میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر بات کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ آج لوک سبھا میں اور کل راجیہ سبھا میں اس پر بحث ہوگی، لیکن اپوزیشن پارٹیاں شور مچا رہی ہیں اور وہ بحث نہیں کرنا چاہتیں۔ اپوزیشن رہنما ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ملک میں کئی واقعات ہو رہے ہیں، جن میں جھارکھنڈ اور گجرات کے واقعات نمایاں ہیں۔ ارکان نے ان پر بحث کے نوٹس دیے ہیں۔ حکومت نے ان نوٹسز کا ذکر تک نہیں کیا۔
