تیرہ برس کا لڑکا 56کمپنیوں کا سی ای او بن گیا

سلائیڈر نیشنل نیوز

مظفر پور:۔بہار کے مظفر پور سے تعلق رکھنے والے 13 برس کے سوریانش 56 اسٹار اپس کمپنیوں کے سی ای او بن گئے ہیں۔ سوریانش ضلع کے کٹرا بلاک کے امّاں گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی کمپنی نویں جماعت میں شروع کی تھی۔ سوریانش فی الحال دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔ اسی کے ساتھ سوریانش نے دنیا کے سب سے کم عمر سی ای او بننے کا ریکارڈ اپنے نام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں آن لائن کمپنی کھولنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ آن لائن چیزیں تلاش کر رہے تھے۔سوریانش نے بتایا کہ جب انہیں آن لائن کمپنی کھولنے کا خیال آیا تو انہوں نے اپنے والد سنتوش کمار کے ساتھ یہ آئیڈیا شیئر کیا۔ جس کے بعد والد نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اسے پاور پوائنٹ کی شکل میں آئیڈیا پیش کرنے کو کہا۔ سوریانش نے بتایا کہ انہوں نے پہلی ای کامرس کی کمپنی شروع کی۔ اس کمپنی کو کھولنے کا مقصد کسی بھی سامان کو 30 منٹ میں لوگوں کے گھروں تک پہنچانا ہے۔ سوریانش نے کہا کہ ان کی کمپنی جلد ہی لوگوں کے گھروں تک سامان پہنچانا شروع کردے گی۔سوریانش کانٹیکٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے اندر 56 اسٹارٹ اپس ہیں۔ سوریانش نے بتایا کہ اس کی ایک اور کمپنی ہے، جس کا نام شادی کیجے ڈاٹ کام ہے، جو لوگوں کو شریک حیات کا انتخاب کرنے میں مدد کر رہی ہے۔ طالب علم نے بتایا کہ کریپٹو کرنسی سے متعلق منتر فائی کمپنی بھی آنے والی ہے۔ وہ اپنی کمپنیوں کو بڑھانے کے لیے 18-18 گھنٹے کام کرتا ہے۔ اس دوران وہ پڑھائی بھی کرتا ہے۔ وہ دونوں کام ایک ساتھ کرتا ہے۔ اس کے والد اس کام میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کمپنی میں مزید 5 شریک بانی ہیں۔ سوریانش نے بتایا کہ ان کی کمپنیاں 5 سے 6 ماہ میں شروع ہو جائیں گی۔سوریانش نے بتایا کہ وہ اسکول جانے سے قاصر ہیں لیکن انہیں اسکول سے بھرپور تعاون مل رہا ہے اور وہ اس کام کو اپنی زندگی میں مزید آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ انہیں ان کمپنیوں سے فی الحال کوئی آمدنی نہیں حاصل ہورہی ہے، لیکن اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو جلد ہی آمدنی بھی شروع ہوجائے گی۔ سوریانش کے والدین ایک این جی او چلاتے ہیں۔ ان کے والد کی این جی او اقوام متحدہ سے وابستہ ہے۔ سوریانش کے والدین نے بتایا کہ ان کا بچہ کھیلنے کی عمر میں کمپنی چلا رہا ہے۔سوریانش کے والد نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی اس کامیابی سے بہت خوش ہیں۔ 13 برس کی عمر میں، میں نے 10ویں پاس کرنے کے بعد آڈیٹنگ کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا اور میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا بھی اسی طرح ترقی کرے۔”