بنگلورو:۔کرناٹک کے منگلورومیں پچھلے دنوں ہونے والے بی جے پی لیڈر پراوین نٹارے کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو حراست میں لئے جانے کا دعویٰ اے ڈی جی پی الوک کمارنے کیاہے۔انہوں نے اس سلسلے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پراوین نٹارے قتل میں ملوث تین اہم ملزمان کو آج پولیس نے گرفتارکرلیاہے،جن کی شناخت سولیا کے ساکن شہاب الدین علی(33)،ریاض اور سبرامنیا علاقے کے ساکن بشیر کے طو ر پر کی گئی ہے۔اُن تینوں کو کلپاڑی میں گرفتارکیاگیاہے۔اے ڈی جی پی الوک کمار کا کہناہے کہ ریاض چکن اسٹال کو مرغیاں سپلائی کرنے کا کام کرتاہے،بشیر ایک ہوٹل میں ایک ملازم ہےاسی طرح سے شہاب الدین کوکو سپلائی کرنے کاکام کرتاہے۔ ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائیگا،اس کے بعد انہیں مزید تحقیقات کیلئے پولیس کسٹڈی میں لیا جائیگا ،اس کے بعد پورے معاملے کو این آئی اے کے حوالے کیا جائیگا اور اس بات کی تحقیقات کی جائیگی کو پراوین کو ہی کیوں نشانہ بنایاگیاتھا۔اے ڈی جی پی الوک کمارنے مزیدبتایاکہ ملزمان اس سے پہلے کسی بھی طرح کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے،البتہ ملزمان کا تعلق پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی سے ہونے کاشبہ ہے اس سلسلے میں بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ملزمان نے قتل کی واردات کو انجام دینے کے بعد پانچ موٹر بائک اور ایک کار کا استعمال کیا تھا ، انہیں جلد ہی ضبط کرلیاجائیگا۔ اس تازہ گرفتاری کے ساتھ اس کیس میں گرفتار ملزمین کی تعداد 10 ہوگئی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ اب کرناٹکا میں بی جے پی حکومت بھی یو پی کا یوگی ماڈل اپنانے اور عدالتی فیصلوں کا انتظار کیے بغیر ہی ملزمین کی جائدادیں منہدم کرنے یا ضبط کرنے کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ کیونکہ بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین کمار قتل کیس کے ملزمین کے سلسلے میں پتہ چلا ہے کہ پولیس ان کی جائدادیں ضبط کرنے والی ہے ۔اے ڈی جی پی آلوک کمار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں ملوث ملزمین کی جائدادیں قرق کرنے کیلئے پولیس اور این آئی اے کی طرف سے ضروری کارروائیاں شروع ہوچکی ہیں ۔اے ڈی جی پی الوک کمانے مزید کہاکہ جو کوئی بھی اس قتل کے کلیدی ملزمین کو پناہ دینے میں براہ راست یا بالواسطہ پر ملوث رہے گا اس کے خلاف بھی این آئی اے کے ساتھ تال میل بناتے ہوئے قانونی کارروائی کی جائیگی ۔ عدالت سے ملزمین کے خلاف وارنٹس جاری کرنے کرنے کی کارروائی بھی ہو رہی ہے ۔
