ندوۃ العلما کے استاد مولانا محمود حسن حسنی کا طویل علالت کے بعد انتقال

نیشنل نیوز

لکھنؤ :۔آج دارالعلوم ندو ۃ العلما کے سینئر استاد مولانا محمود حسن حسنی ندوی کا انتقال لمبی علالت کے بعد لکھنؤ میں ہوگیا، موصوف گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے، شنید کہ انہیںکڈنی کے عوارض کے مسائل کے شکار تھا۔وہ درس و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف سے بھی وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ انہیں شعرگوئی پر بھی قدرت تھی ۔ وہ مولاناسید ابوالحسن علی ندوی کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ مولانا محمود حسن حسنی ندوی لکھنؤ میں 28 جمادی الاولی1391ھ مطابق 22جولائی 1971کو پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ندوۃ العلماء کے ایک مکتب میں حاصل کی، جب کہ ابتدائی عربی درجات کی تعلیم مدرسہ ضیاء العلوم، رائے بریلی میں حاصل کرنے کے بعد ثانویہ اور عا لمیت کی تکمیل دار العلوم، ندوۃ العلماء سے کی۔انہوں نے حدیث شریف کا دو سالہ کورس 1412ھ مطابق199 میں کیااور پھر المعہد العالی للدعوۃ و الفکر الاسلامی کا ایک سالہ کورس کرکے مدرسہ ضیا العلوم سے تدریس کا آغاز کیااور دارِ عرفات، رائے بریلی میں تصنیف و تحقیق سے وابستگی اختیار کی۔سنہ 2001 سے معاون ایڈیٹر کے طور پر پھر کچھ عرصہ بعد نائب مدیر کے طور پرتعمیر حیات سے وابستہ رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں تاریخِ اصلاح و تربیت اور کئی دینی، علمی، دعوتی اور اصلاحی شخصیات کے تذکرے شامل ہیں۔اس کے ساتھ ماہنامہ رضوان لکھنؤ کے معاون مدیر اور دارِ عرفات، رائے بریلی کے ترجمان پیام ِعرفات کی مجلس ادارت کے رکن رہے۔ 12اگست2022 بروز جمعہ اس درا فانی سے طویل علالت کے بعد کوچ کرگئے۔