دہلی:۔بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں نوسربازگروہ آٹھ ماہ تک ایک ہوٹل میں جعلی پولیس اسٹیشن چلاتا رہا ہے۔نوسرباز پولیس کی وردی میں ملبوس ہوکر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور ان سے رقوم بٹورتے رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے سیکڑوں افراد سے رقم بٹوری تھی ۔بھارت میں نوسربازوں کے پولیس یا فوجی ہونے کا ڈرامارچانے کے واقعات عام ہیں جہاں وردی میں ملبوس افراد کے لیے بڑے پیمانے پرخوف اور احترام پایا جاتا ہے لیکن ایک جعلی پولیس اسٹیشن کا قیام تواس طرح کے گھوٹالوں کا نقطہ عروج ہے۔ریاست کے ایک اعلیٰ پولیس افسر ڈی سی سری وَستوا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ریاست بہارمیں اس گروہ نے اصل مقامی پولیس سربراہ کے گھر سے بہ مشکل 500 میٹر (گز) کے فاصلے پرایک میں دکان میں تھانہ قائم کررکھا تھا۔اس کے ارکان نے رینک بیجز والی وردیاں پہنیں اور بندوقیں اٹھا رکھی تھیں۔وہ شکایات اورمقدمات درج کرنے کے لیے جعلی تھانے میں آنے والے مقامی لوگوں سے رقم وصول کرتے تھے جبکہ دوسروں سے بھی نقدرقوم اینٹھ رہے تھے اور یہ وعدہ کرتے تھے کہ وہ پولیس میں سماجی رہائش یا ملازمتیں حاصل کرنے میں ان کی مدد کرینگے۔انھوں نے بڑے پیمانے پر دیہی علاقے کے لوگوں کوبھی اس جعل سازی میں ہاتھ بٹانے کے لیے بھرتی کررکھا تھا اور انھیں قریباً500 روپے (قریباً 6 ڈالر) یومیہ اجرت ادا کرتے تھے تاکہ وہ جعلی پولیس تھانے میں کام کرنے والے پولیس افسرہونے کا ڈراما کرسکیں۔لیکن اس نوسربازی کا اس وقت بھانڈا پھوٹ گیا جب ایک حقیقی پولیس افسر نے اس گروہ کے دو ارکان کو سرکاری ہتھیاروں کے بجائے مقامی ورکشاپس میں بنائی گئی بندوقیں لے جاتے ہوئے دیکھا۔سری وستوَا نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس گروہ کے کم سے کم چھے ارکان بشمول دوخواتین کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن اس کا سرغنہ ابھی تک مفرورہے۔ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اورمزید معلومات سامنے آئیں گی۔
