دہلی:۔سپریم کورٹ نے بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ پر منگل کو بڑا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ بے نامی لین دین (ممنوعہ) ایکٹ 1988 کی دفعہ 3(2) غیر آئینی ہے۔ یہ شق واضح طور پر من مانی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بے نامی ایکٹ میں 2016 کی ترمیم کا اطلاق سابقہ طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بے نامی جائیداد کے لیے 3 سال قید کے قانون کو بھی منسوخ کردیا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ جائیداد کو ضبط کرنے کا حق سابقہ طور پر لاگو نہیں ہوگا۔ پرانے کیسز میں 2016 کے قانون کے تحت کاروائی نہیں کی جائے گی۔بے نامی ٹرانزیکشنز (ممنوعہ) ایکٹ کی دفعہ 3(2) میں کہا گیا ہے کہ جو بھی بے نامی لین دین میں ملوث ہو گا اسے سزا دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے، جرمانہ یاپھر دونوں۔
