شیموگہ:۔میڈیا،سوشیل میڈیا اور یوٹیوب چینلس کے نام پر آئے دن بڑے پیمانے پر نقلی صحافی اور بیلاک میلنگ کرنے والے چینلس بڑھنے لگے ہیں جس سے سماج کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہورہاہے،ایسے لوگوں کو خودعام لوگ ہی بڑھاوادے رہے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے تحقیق کئے ان لوگوں کی ہمت افزائی کررہے ہیں،جس سے پورے سماج کو نقصان ہورہاہے، بغیر کوئی صحافتی پس منظر رکھنے والے،تعلیم سے ناواقف،میڈیا کے "م” سے بھی لاعلم لوگ ہاتھ میں مائک اور موبائل وکیمرہ لیکر لوگوں کے پاس پہنچ رہے ہیں اور بڑے پیمانےپر وصولی کا کام کررہے ہیں،ہر سال ایسے کئی لوگ اور کئی چینلس منظرِ عام پر آتے ہیں پھر اچانک غائب ہوجاتے ہیں۔دراصل ان لوگوں کا کام میڈیاکیلئے کام کرنانہیں ہے بلکہ میڈیاکے نام پر وصولی کا دھندہ کرناہے،یہ لوگ گودی میڈیا سے زیادہ خطرناک ہیں۔شیموگہ،داونگیرے، چتردرگہ میں بھی کچھ لوگ یوٹیوب چینلس بنا کر اپنے آپ کو میڈیاسے تعلق رکھنے والے بتاتے ہیں،جبکہ میڈیامیں کام کرنے والے اور حقیقت میں اخبار چلانے والے وصولی کے جال سے دور رہتے ہیں،اس طرح کے واقعات شیموگہ،داونگیرے اور چتردرگہ میں زیادہ ہونے لگے ہیں،جس سے کئی مالدار طبقہ پریشان ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگر ان نقلی میڈیا والوں کو پیسے دینے سے اگر لوگ انکار کرتے ہیں تو اُنہیں حراساں کیاجارہاہے۔کچھ علاقوں میں مسلم میڈیا کا بھی نام لیاجارہاہے،جس سے کچھ مسلمان جوش و جذبات میں آکرا بہروپیوں کا شکارہورہے ہیں۔اس وقت یقیناً مسلمانوں کو میڈیا کی ضرورت ہے،لیکن اس کی ضرورت کو کچھ لوگ کمزوری بناکر لوگوں سے پیسےاینٹھ رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ان حالات میں ان بہروپیوں سے الرٹ رہیں اور نقلی میڈیا کو بڑھنے کاموقع نہ دیں۔
