شیموگہ:۔ انجمن ترقی اردو ہند ، شاخ شیموگہ اور ادرۂ ادب ِ اسلامی ہند، شاخ شیموگہ کے زیر اہتمام مرحوم پروفیسر بی۔ شیخ علی کی یاد میں تعزیتی نشست و دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا۔ یہ خصوصی نشست جماعت اسلامی ہند ، شیموگہ کے دفتر ’’ دارالامن ‘‘ میںاطہر ؔ شیموگوی کی صدارت میںمنعقد کی گئی۔مرحوم پروفیسر بی۔ شیخ علی پر اپنے زرین و پرُ سوز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ریاض محمود نے کہا کہ وہ میسور میں اپنے پی جی کورس کے تعلیمی زمانے میں مرحوم سے متعارف ہوئے اور اکثر ان کی ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے۔ان ملاقاتوں میں انہیں گہرائی سے جاننے اور ان سے فیضیاب ہونے کا بہترین موقع ملا۔ پروفیسر شیخ علی بہت ہی سادہ لوح ، منکسر المزاج اور صوفیانہ طبیعت کے فرد تھے۔ہمیشہ مطالعے یا تحریری کام میں منہمک رہتے۔ وہ ایک بہترین استاد،بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب،محقق تاریخ دان اور کثیر الکتب مصنف تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک بہترین صحافی اور قوم و ملت کے سچے ہمدرد و خیر خواہ تھے۔ وظیفہ یاب ہونے کے بعد اپنے ذاتی سرمائے سے انہوں میسور میں ایک اسکول کی بنیاد رکھی۔علم و ادب اور تحقیق پر مبنی ایک انتہائی اہم چو ماہی رسالہ ’’ نور ِ بصیرت ‘‘ نکالا جس کا ہر شمارہ انتہائی اہم ہے۔پروفیسر ریاض محمود ریاضؔ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ نومبر 2010 میں عتیق پریس کے مالک مرحوم عتیق صاحب کی صدارت میں ’’تعمیر ملت ‘‘ نامی ایک تنظیم سے ٹیپو سلطان شہید پر ایک خصوصی خطبے کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے اہم مقرر مرحوم بی شیخ علی تھے ۔ اسی دن بعد نمازِ مغرب ادارہ ٔ ادب ِ اسلامی ہند ، شاخ شیموگہ کے زیر اہتمام پروفیسر بی۔ شیخ علی کے ہاتھوں درس ِ اقبال ؔ کا افتتاح کیا گیا جو آ ج تک جاری ہے ۔اس موقع پر سراج زیبائی نے مرحوم بی شیخ علی کے نام خراج عقیدت کے طور پر ایک بہترین نظم پیش کی ۔دونوں اداروں کے صدراطہر ؔ شیموگوی سے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت پر اس محفل کا اختتام ہوا۔دونوں اداروں کے تمام عہدہ دار و اراکین شریکِ محفل رہے ۔
