کسی بھی مذہب کو ماننے والے اپنے مذہب کا اقرار کرنے کیلئے خوفزدہ ہیں:چرکا پرسننا 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:شیموگہ ضلع جرنلسٹ اسوسیشن کاآج آغازہوا،ضلع میں صحافتی خدمات کو موثرطریقے سے انجام دینے اور صحافیوں کے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے شیموگہ ضلع جرنلسٹ اسوسیشن کی افتتاحی تقریب شہرکے ڈی سی سی بینک ہال میں منعقدکی گئی تھی ،اس موقع پر فنکار چرکا رپرسننا نے اپنی تقریرمیں کہاکہ آج ملک کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں،کسی بھی مذہب کو ماننے والے اپنے مذہب کا اقرار کرنے کیلئے خوفزدہ ہورہے ہیں،کرسچن،بُدھ،ہندو مسلم پر قائم شدہ کسی بھی مذہب کا ملک آج مذہبی اختلافات کا مرکز بنتاجارہاہے،ایسے میں بھارت کے لوگوں کو چاہیے  سب مل کر ایک بھارت بنائیں،آج صحافت ایک چیلنج بن چکاہے،اخبارات ومیڈیا ہائوز مختلف مسائل کا سامنا کررہے ہیں،ایسے میں صحافیوں کیلئے کام کرنا مشکل ہوچکاہے۔مزیدانہوں نے کہاکہ بھارت ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر مذہب، ہرطبقہ اور ہرذات کے لوگوں کے درمیان آپس میں محبت، اتفاق اور حب الوطنی کا جذبہ باقی ہے۔ لیکن موجودہ دور میں سیاسی طور پر ہمارے درمیان نفرت کی لکیریں کھینچی جارہی ہیں۔ اس بات کو ذہین نشین کرلیں کہ مذہبی نفرت ہی فساد کی وجہ بنتا ہے اوراسکی پرورش بھی کرتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ایک صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے ملک کو اس سیاسی اورمذہبی آگ سے بچانے کیلئے خوف وہراسانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری ہمت کے ساتھ حقیقت بیان کرنے کا عزم پیدا کریں۔اس پروگرام میں اسوسیشن کے ممبران میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کرتے ہوئے سرجی اسپتال کے چیرمین دھننجئے سرجی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ یہ سماج دو لوگوں سے خوف کھاتا ہے وہ ہے اس ملک کا قانون اوردوسرا صحافتی پیشے سے۔ سماج میں ہورہی سچائی بیان کرکے اپنے آپ کی شناخت کروانے والے ملکی آئین کا 4ستون صحافت میں یہ قابلیت بخوبی موجود ہے کہ وہ ان سماجی برائیوں کی تلاش کریں اور اسکو درست کرتے ہوئے صحیح رہنمائی کریں۔ اس موقع پر شیموگہ ضلع ورکنگ جرنلسٹ اسوسیشن کے نونامزد صدر اورریاست کرناٹک کے میڈیا اکاڈمی رکن گوپال یڈگیرے نے اپنے مخصوص خطاب میں کہا کہ صحافیوں کے قدم معاشرے کی جانب بڑھنے چاہئے۔ میڈیا کا پیشہ کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سماجی خدمات ایک ٹیچر کے پیشے میں شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پرنٹ میڈیا کیلئے موجود دور میں جدید سافٹ ویئر مفت میں فراہم کرتے ہوئے مدد کرنی چاہئے۔ اس موقع پر صحافیوں اورانکے اہل خانہ کو سرجی اسپتال کے ذریعہ ہیلتھ کارڈ تقسیم کیا گیا۔ اسی پروگرام میں منشیات کی مخالفت مہم کا آغازبھی کیا گیا جس کا افتتاح رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا کے ہاتھوں عمل میں لایا گیا۔رکن پارلیمان نے نہایت افسوس کے ساتھ بتایا کہ منشیات کا استعمال بے قابو ہوچکا ہے۔ منشیات کی وجہ سے آج ملک میں بہت ساری ملک کے مخالف سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ آدمی آدمی کے درمیان رنجش، جھگڑے ، فسادات اور حملے ہورہے ہیں۔اس موقع پر رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرانے بات کرتے ہوئے کہاکہ سماج مخالفت عملی سرگرمیاں حد سے تجاوز کرچکی ہیں ان سب کی اصل وجہ منشیات کا استعمال ہے جسے روکنا اور لگام لگانا آج کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔اس موقع پر شیموگہ ضلع پریس ٹرسٹ کے صدر این منجوناتھ ،ورکنگ جرنلسٹ اسوسیشن کے صدرگوپال ایڈگیرے، سینئر جرنلسٹ چندرکانت نے بھی اپنے خیالات کاا ظہا ر کیا ، مہمانِ خصوصی کے طو رپررکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا،سرکاری ملازم تنظیم کے ریاستی صدر شڈاکشری کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس افتتاحی تقریب میں شریک رہے۔اس موقع پر سرجی اسپتال کی جانب سے رعایتی علاج کیلئےصحافیوں کو ہیلتھ کارڈ تقسیم کئے گئے۔