شیموگہ:۔ریاست بھرمیں مختلف علاقوں میں یہ افواہ اڑائی جارہی ہے کہ بچوں کااغواء یعنی کڈنپنگ کی وارداتیں تیز ہوچکی ہیں،اس سلسلے میں سوشیل میڈیاپر مختلف آڈیوزوویڈیوز گردش کررہے ہیں ،لیکن کہیں بھی اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیاہے،باوجوداس کے لوگ خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں۔کرناٹک کے گدگ،اڈپی،شیموگہ اور منگلوروکے کچھ علاقوں میں سوشیل میڈیاپر پُرانی یا غیر متعلقہ ویڈیوز گردش کررہے ہیں،اس کےساتھ کچھ لوگ مقامی علاقوں کے نام جوڑکر یہ افواہ پھیلارہے ہیں کہ فلاں علاقے سےبچے چوری ہوئے ہیں یاپھر فلاں علاقوں سے بچوں کی چوری کرنے والے لوگ ملے ہوئے ہیں،مگر اس سلسلے میں ریاست کے کسی بھی حصے میں اس طرح کی رپورٹس درج نہیں ہوئی ہیں نہ ہی پولیس نے اس تعلق سے تصدیق کی ہے،البتہ محکمہ پولیس کی جانب سے مسلسل اس بات کی اطلاع دی جارہی ہےکہ بچوں کے اغواء کے تعلق سے جو خبریں سوشیل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں وہ جھوٹی ہیں،عوام ان خبروں کو دیکھ کر پریشان نہ ہوں۔ساتھ ہی ساتھ پولیس نے جھوٹی افواہوں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔ شیموگہ،گدگ اورمنگلورومیں یہ افواہیں کچھ زیادہ ہی پھیلائی جارہی ہیں۔شیموگہ میں تو یہ کہاجارہاہے کہ یونیٹی ہال کے پاس سے بچہ اغواء ہواہے،کچھ لوگ اس واردات کو ٹینک محلےسے جوڑرہے ہیںلیکن یہ باتیں افواہ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔البتہ گذشتہ دنوں شہرکے گنڈپا شیڈمیں گھریلوملازمہ اپنے مالک کے بچی کو لیکر دُکان گئی ہوئی تھی اس دوران لوگوں نے اس پر شک ظاہرکرتے ہوئے اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور پولیس کے حوالے کیاتھا،پولیس کی تحقیقات کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ عورت پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ ملازمہ ہے۔پولیس کاکہناہے کہ احتیاط ضروری ہےلیکن افواہوں کا بازار گرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔
