کوویڈ میں ہلاک ہونے والےٹرانسپورٹ ملازمین کو نہیں ملا معاوضہ،حکومت کو نوٹس جاری

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کوویڈکی وباء کے دوران ہلاک ہونے والے کے ایس آر ٹی سی کے چاروں کارپوریشن کے ملازمین کو سرکاری معاوضہ نہ ملنے کی بات کو لیکر کرناٹکا ہائی کورٹ میں ویلفیر پارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین اور عزیز پاشاہ جاگیردار نے کرناٹکا ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا،جس پر کرناٹکا ہائی کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیاہے۔اڈوکیٹ طاہر حسین اور عزیز پاشاہ جاگیردار نے کارگذار چیف جسٹس الوک آرادھے کی قیادت والی بینچ سے رجوع کیاتھا۔اس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔عرضی گذاروں نے عدالت کو بتایاہے کہ کے ایس آر ٹی سی میں خدمات انجام دیتے ہوئے کوویڈکے دوران ہلاک ہونے والے ملازمین کو 30 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کی بات کہی گئی تھی،لیکن یہ معاوضہ مہلوکین کے لواحقین کونہیں ملاہے۔عرضی گذاروں کی بحث سننے کے بعدعدالت نے کرناٹکا روڈ ٹرانسپورٹ ،کے ایس آر ٹی سی،بی ایم ٹی سی،کے کے آر ٹی سی اور نارتھ ایسٹ آرٹی سی کو نوٹس جاری کیاہے۔کوویڈ19 سے روڈ ٹرانسپورٹیشن کے سینکڑوں ملازمین ہلاک ہوئے ہیں،اُن کے اہل خانہ کو30 لاکھ روپئے دینے کااعلان2021 کے10 فروری کو سرکاری حکمنامے کے ذریعے سے کیاگیاتھا۔آر ٹی آئی کے ذریعے سے حاصل کی گئی اطلاعات کی بنیادپر سال2020 مارچ سےسال2021 جون تک کوویڈ سے ریاست کے چاروں حلقوں میں 351 ملازمین ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے صرف11 ملازمین کے لواحقین کو مالی امداد دی گئی ہے،بقیہ ملازمین کو معاوضہ نہیں دیاگیاہے۔کوویڈ19 سے ریاست کے چاروں حلقوں کے آر ٹی سی کے مختلف شعبوں میں سال2020 مارچ سےاب تک ہلاک ہونے والے ملازمین کی تفصیلات مہیاہونی چاہیے۔سال2021 فروری کے10 تاریخ کو روڈ ٹرانسپورٹیشن کی جانب سے جاری سرکیولرکے مطابق مہلوکین کے لواحقین کو یا منحصر ہونے والے افراد کو فوری طور پر30 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کیلئے عرضی میں گذارش کی گئی ہے۔مرنے والے ملازمین کے لواحقین کو فوری طورپر10 لاکھ روپئے جاری کئے جائیں،اس کیلئے کورٹ سے احکامات جاری کرنے کی گذارش بھی عرضی گذاروں نے جاری کی ہے۔سال2022 جنوری تک بی ایم ٹی سی کے110ملازمین ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے صرف 4ملازمین کو معاوضہ دیاگیاہے،جبکہ کے ایس آرٹی سی کے97 ملازمین ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 7 ملازمین کے اہل خانہ کو معاوضہ دیاگیاہے۔