کوورونا مریضوں میں آرہی ہےخون جمنے کی دقت

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔ دنیا میں کورونا کا انفیکشن کو پھیلتے ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ سائنسدان اب بھی کورونا کے بارے میں مستقل تحقیق کر رہے ہیں۔ کورونا انفیکشن کو لیکر آئے دن نئی۔نئی جانکاریاں سامنے آرہی ہیں۔ نیوجرسی کے رٹگرس یونیورسٹی کے محققین نے اپنی تحقیق میں ایسی معلومات حاصل کیں ، جو دنیا بھر کے ممالک کو پریشان کرسکتی ہیں۔ محققین نے پایا ہے کہ کورونا کی وجہ سے مریض کے ہاتھوں میںخطرناک خون جمنا (Blood Clotting) ہوگیا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس انسان کے جسم کو تیزی سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کورونا سے ہونے والی سوزش Inflammation جسم کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خون کے جمنے کا کس طرح علاج کیا جاسکتا ہے۔ ابھی تک جسم کے نچلے حصے میں خون جمنے کی شکایت ملی تھی۔کورونا کی نئی تحقیق سے جس طرح سے مریض کے بازو میں خون جمنے کی معلومات کا انکشاف ہوا ہے وہ پریشان کن ہے۔وائرسس میگزین میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق خون جمنے کا یہ معاملہ ایک 85 سالہ شخص میں دیکھا گیا ہے۔ ریسرچر پائل پارکھ کے مطابق مریض طویل عرصے سے بازو میں سوجن کا شکار تھا۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچا جس کے بعد اسے جانچ کیلئے اسپتال بھیج دیا گیا۔ جانچ میں مریض کے ہاتھ کے اوپری حصے میں خون کا جمنا (Blood Clotting) پایا گیا۔یہاں ڈاکٹر بھی حیرت زدہ دکھائی دئے کیونکہ مریض کی کورونا رپورٹ مثبت آئی ہے لیکن اس میں کورونا کی علامات نہیں تھیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ مریض کا آکسیجن لیول کم نہیں تھا لیکن ہاتھ میں خون جمنے کی وجہ سے اسے اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ ڈاکٹر پارکھ نے کہا، یہ بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ 30 فیصد مریضوں میں ،خون کا جمنا پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے سوجن ، درد اور تھکاوٹ بھی برقرار رہ سکتی ہے۔