دہلی:۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے یکمشت نقد عطیات کی زیادہ سے زیادہ حد میں تخفیف کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے وزارت قانون سے سفارش کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے یکمشت نقد عطیہ کی حد 20 ہزار سے کم کر کے 2 ہزار کر دی جائے۔الیکشن کمیشن نے اس معاملہ پر وزارت قانون کو مکتوب ارسال کیا ہے۔ مکتوب کے ذریعے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے کل عطیات میں سے نقد عطیات کو 20 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 20 کروڑ کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے موجودہ عوامی نمائندگی قانون میں کچھ ترامیم کی بھی سفارش کی ہے۔الیکشن کمیشن کی ان سفارشات کا مقصد سیاسی جماعتوں کو عطیات دینے کے عمل کو بہتر بنانا، شفافیت لانا اور انتخابات میں قسمت آزمائی کرنے والے امیدواروں کی جانب سے کیے گئے اخراجات کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں 284 ڈیفالٹ اور غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فہرست سے ہٹا دیا ہے۔غور طلب ہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی عطیات کی رپورٹ میں 20 ہزار روپے سے زیادہ کے تمام قسم کے عطیات کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کی سفارشات وزارت قانون نے قبول کر لیں تو اب سیاسی جماعتوں کو عطیات کی رپورٹ میں دو ہزار روپے سے زیادہ کے عطیات کی تفصیلات بھی ظاہر کرنا ہوں گی۔الیکشن کمیشن یہ بھی چاہتا ہے کہ انتخابات کے دوران امیدوار الیکشن کے لیے علیحدہ بینک اکاؤنٹ کھولیں اور تمام لین دین اسی اکاؤنٹ سے کیے جائیں اور انتخابی اخراجات کے گوشوارے میں بھی یہی لکھا جائے۔حال ہی میں الیکشن کمیشن نے 284 غیر تعمیل شدہ رجسٹرڈ اور غیر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فہرست سے باہر نکال دیا دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان میں سے 253 سے زائد کو غیر فعال بھی قرار دیا تھا۔ اس سے قبل محکمہ انکم ٹیکس نے ٹیکس چوری کے الزام میں ملک بھر میں ایسی کئی رجسٹرڈ پارٹیوں پر چھاپے مارے تھے، جو رجسٹرڈ تھیں لیکن کبھی الیکشن نہیں لڑیں اور لوگوں سے بڑے پیمانے پر عطیات حاصل کر رہی تھیں۔
