دہلی:۔اعلیٰ انٹیلی جنس ذرائع نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ بین الاقوامی سنی اسلام پسند تنظیم مصر کی اخوان المسلمین پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) اور جماعت اسلامی ہند جیسے گروپوں کے ذریعے ہندوستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا، اخوان المسلمین کے سرکردہ رہنما محمد مہدی اور مسلم دنیا کے مشہور عالم و فقیہ علامہ یوسف القرضاوی کے ساتھ رابطے میں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمعرات کے روز کئی ریاستوں میں پی ایف آئی کو چھاپوں کا سامنا کرنا پڑا۔پی ایف آئی کا نظریہ اخوان المسلمون سے ملتا جلتا ہے کیونکہ دونوں ہی اسلامی سیاست کرنے اور اتحاد امت پر یقین رکھتے ہیں۔ اخوان المسلمون کی طرح پی ایف آئی بھی تعلیمی پروگرام اور سماجی خدمات انجام دے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کا عالمی اسلامی خلافت کے دوبارہ قیام کا ایک ہی مقصد ہے۔ یہ مماثلتیں یہیں ختم نہیں ہوتیں۔ جب کہ اخوان المسلمون اپنے کیڈر کو برادرز کہتا ہے اور پی ایف آئی اپنے کارکنان کو بندہ کہتی ہے۔اخوان المسلمون نے 2012 میں مصر کے پہلے آزاد صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن ایک سال بعد اس کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد فوج نے اس کا تختہ الٹ دیا تھا اور اس کے بعد سے حکام کی جانب سے شدید کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ اسے ملک اور مغربی ایشیا میں کئی دیگر ممالک میں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مغربی ایشیا میں پی ایف آئی فرنٹ تنظیموں کا اخوان المسلمون سے براہ راست تعلق ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام احمد اسلامی اسکالر ہیں اور کیرالہ میں الجامعہ الاسلامیہ یونیورسٹی کے ریکٹر ہیں، انھوں نے قطر کا دورہ کیا اور مغربی ایشیا سے پی ایف آئی کے لیے فنڈز اکٹھا کیا۔دفاعی ساز و سامان میں خود انحصاری کے تحت نئی پہل، برہموس ایرو اسپیس کے ساتھ معاہدہذرائع نے بتایا کہ اس کا اہتمام مصری اخوان المسلمون کے اسکالر علامہ شیخ محمد یوسف القرضاوی کی مدد سے کیا گیا تھا، جو قطر میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف آئی ترکی میں قائم این جی اوز سے بھی رابطے میں ہے جو اخوان المسلمون کا مقامی باب ہیں۔
