پی ایف آئی کی جڑیں خلیجی ممالک میں مضبوط: این آئی اے

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ذرائع نے بتایا کہ پی ایف آئی نے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے ارکان سے حوالات کے ذریعے بڑی رقم حاصل کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ غیر مقیم ہندوستانیوںکے کھاتوں کا استعمال پی ایف آئی ممبران خلیجی ممالک سے رقوم بھیجنے کے لیے کر رہے تھے۔ فنڈز ملنے کے بعد ممبران اسے دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرکے واپس حاصل کرتے تھے۔ان کے حامی اور اراکین متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور عمان میں کام کر رہے تھے، جہاں سے وہ پی ایف آئی کی مالی مدد کر رہے تھے۔ اس رقم کو پی ایف آئی نے مبینہ طور پر ایجنسیوں کی نظروں سے چھپایا تھا۔پی ایف آئی نے ہندوستانی ایجنسیوں کو دھوکہ دینے کے لیے کئی ڈمی تنظیمیں بنائی ہیں۔ ان میں سے تین بیرون ملک قائم کیے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایف آئی کے متعدد کارکنوں نے پچھلے دو سالوں میں متحدہ عرب امارات کا سفر کیا۔مبینہ طور پر اس کا مقصد تنظیم کے لیے رقم جمع کرنا تھا۔پی ایف آئی کے ارکان نے مبینہ طور پر حوالات کے ذریعے بھاری رقم ہندوستان کو بھیجی تھی۔ عمان سے پی ایف آئی کے کارکنوں نے تقریباً 44 لاکھ روپے حوالات کے ذریعے ہندوستان بھیجے۔ ایجنسیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے خلیجی ممالک میں اپنے اراکین اور تاجروں کے ذریعے رقوم اکٹھی کیں۔ وہ خصوصی ویڈیوز دکھاتا تھا کہ کس طرح مسلمان ہندوستان میں غیر محفوظ ہیں۔ سیفو، جو ابوظہبی میں پی ایف آئی کا رکن ہے، رئیل اسٹیٹ کا کاروبار سنبھالتا ہے۔سعودی عرب میں پی ایف آئی کے اراکین مددکے بہانے ہندوستانی مسلمانوں میں شامل ہوتے ہیں، جب کہ ان کا اصل مقصد انہیں بنیاد پرست بنانا ہے۔