ناچ گانے،ڈانس تماشے اور پٹاخوں سے جلوس محمدیؐ کی ہوئی توہین; علماء کی نصیحت بھی نہیں کرگئی کام!کیا یہی ہیں مسلمان؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔میلادالنبی ﷺکے موقع پرریاست کے شیموگہ،داونگیرے،ہانگل سمیت مختلف علاقوں میں روایتی طورپرجلوس محمدیؐ نکالاگیا ، جہاں اس جلوس کے ذریعے سے امن کا پیغام عام کرنے کی بات کہی گئی تھی،وہیں اس جلوس میں بڑے پیمانے پر مسلم نوجوانوں نے اپنے دین کی شبیہ بگاڑ کررکھ دی،جس کی وجہ سے غیروں میں اسلام کو لیکر کئی طرح کےسوالات اٹھ رہے ہیں۔جلوس محمدیؐ کو نہایت ادب واحترام اور شائستگی کے ساتھ منانے کیلئےپچھلے کئی دنوں سے علمائے کرام ہدایت اور نصیحت کررہے تھے،لیکن یہ تمام ہدایتیں اور نصیحتیں ایک ہی دن میں تارتار ہوگئیں ۔ علمائےکرام نے بارہا اس بات کی ہدایت دی تھی کہ جلوس محمدیؐ میں کسی بھی طرح کے غیر اسلامی شعار کا استعمال نہ کیاجائے بلکہ اپنے جلوس سے غیروں کے درمیان اسلام کا پیغام عام کیا جائے،مگر مسلم نوجوانوں نے تمام ہدایتوں اور نصیحتوں کے برعکس کام کرتے ہوئے میوزک بجاکر خوب ناچتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ان کا ڈانس کرنا اور ناچنا اس قدر دکھائی دے رہا تھا مانوکہ وہ جلوس محمدی میں نہیں بلکہ وہ ایک ڈانس بارمیں ناچ رہے ہیں ۔ ایک طرف جلوس کے سراہانے میں علماء اور معتقدین نعتیں،درودِ سلام کا ورد کررہے تھے تو دوسری جانب نوجوان بے ڈھنگی میوزک پر تھرک رہے تھے اور تو اور ان حلیہ دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتاتھاکہ یہ نوجوان مسلمان ہیں،بالو ں کی اسٹرائننگ کرواکر منہ پرچمک دھمک لگاکر،اسٹیکر و پٹیاں باندھ کراپنے آپ کو ڈی جے بوائس بنا بیٹھے تھےا ور ان کا ہر اسٹیپ اس بات کا ثبوت دے رہا تھاکہ یہ عشق رسول میں نہیں بلکہ اپنے کرتب دکھانے کیلئے جلوس میں شامل ہوئے ہیں۔پہلی بار ایسا یہ بھی دیکھنے کوملاکہ مسلم نوجوان پٹاخے اڑاکر اپنے بیہودگی کامظاہرہ کررہے تھے،ماضی میں پٹاخوں کو اڑانے والوں کوکافر اور شیطان کہا کرتے تھے لیکن اس دفعہ غیروں سے پوری مشابہت کی گئی ،اس جلوس کے دوران ایک اہم سوال یہ بھی اٹھاکہ نوجوانوں نے میلادالنبی منایاہے یاپھر ٹیپوجینتی منائی ہے ۔یقیناً ٹیپوسلطان مسلمانوں کی شان ہیں اور اُنہیں رحمۃ اُللہ علیہ کے نام سے پکارا جاتاہے۔یہاں اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے میلادکی بھی توہین کی گئی ساتھ ہی ساتھ فاتح اعظم ٹیپوسلطان کی شان میں بھی گستاخیاں کی گئیں۔آخرمسلم نوجوانوں کو یہ کیاہواہے جو اپنی ہی من مانی کرتے ہوئے پورے اسلامی شعارکی توہین کی ہے۔میلادتو اس طرح سے نہیں منایاجاتانہ ہی اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کے نام پرمنعقدہ جلوس محمدیؐ کی توہین کرتے ہوئے کہیں مسلمان عذاب کوتو دعوت نہیں دے رہے ہیں۔آنے والے دنوں میں اس طرح کی حرکتیں نہ ہوں اور نہ ہی اسلام کی بدنامی کے اسباب پیدا ہوں اس کیلئے عمائدین،ذمہ داران اور علماء مشترکہ طور پر کام کریں تو یقیناً جلوس محمدیؐ ایک اچھا پیغام دینے کا سبب پیدا کرسکتاہے اور غیروں کو اسلام کے قریب آنے کی راہ ہموار کرسکتاہے۔