نیویارک:۔ناسا نے دو ہفتے پہلے زمین کو کسی ممکنہ خلائی حملے سے بچانے کے لییاپنے ایک خلائی جہاز کو ایک شہابیے سے ٹکرانے کا جو تجربہ کیا تھا، وہ توقع سے بڑھ کر کامیاب رہا ہے۔امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو کسی ممکنہ خلائی خطرے سے بچانے کا پہلا تجربہ کامیاب ہو گیا ہے اور لاکھوں میل کے فاصلے پر گردش کرنے والے اس شہابیے نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے ، جس سے ایک خلائی جہاز کو پوری قوت سے ٹکرا یا گیا تھا۔ہماری زمین جس خلا میں سورج کے گرد گردش کر رہی ہے، اس میں اور بھی ان گنت چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جنہیں شہابیے کہا جاتا ہے، اپنے اپنے راستوں پر رواں دواں ہیں۔ لیکن جب کوئی شہابیہ زمین کے بہت قریب آ جاتا ہے تو زمین کی کششِ ثقل اسے اپنی جانب کھینچ لیتی ہے لیکن اسے زمین کی سطح تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک سو کلومیٹر کی ہوائی تہہ سے گزرنا ہوتاہے۔شہابیوں کی رفتار کئی ہزار میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔جب وہ اس تیز رفتار کے ساتھ ہوا کی چادر میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ سے اس قدر حرارت پیدا ہوتی ہے کہ شہابیہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔یہ مناظر کسی بھی تاریک رات میں، جب آسمان صاف ہو تو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ اچانک آسمان کے کسی حصے سے ایک چمک دار شے نمودار ہوتی ہے اور اپنے پیچھے لمبی روشن لکیر چھوڑتی ہوئی آناً فاناً نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اسے ہمارے ہاں ستارے کا ٹوٹنا کہا جاتا ہے۔لیکن اگر شہابیہ بہت بڑا ہو تو یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ وہ ہوا کے غلاف سے گزرتے ہوئے مکمل طور پر نہ جل سکے اور اس کا کچھ حصہ زمین سے ٹکرا جائے۔ ایسی صورت میں، شہابیے کا ہدف بننے والے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔زمین کی سطح کے تجزیے سے سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ 60 کروڑ سال کے دوران زمین پر کم و بیش 60 ایسے شہابیے گر چکے ہیں جن کا قطر تین میل یا اس سے زیادہ تھا۔ناسا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کے مدار کے قریب 26 ہزار سے زیادہ شہابیے گردش کر رہے ہیں جن میں سے 2000 ایسے ہیں جن کا قطر ایک کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ زمین سے ٹکرانے کی صورت میں وہ بڑے پیمانے پر تباہی برپا کر سکتے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس شہابیے کے ٹکرانے سے بڑے پیمانے پر حرارت خارج ہوئی اور فضا میں گرد وغبار کے بادل چھا گئے جنہوں نے سورج کی کرنوں کا زمین تک پہنچنے کا راستہ روک دیا۔ یہ کیفیت طویل عرصے تک جاری رہی جس سے آب و ہوا اور موسم بھی بدل گئے۔کیلی فورنیابرکلے یونیورسٹی کے ایک ماہر طبعیات لوئیس والٹر الویز اور ان کے بیٹے والٹر نے شہابیے کا ہدف بننے والے علاقے میں زمین کے نمونے اکھٹے کر کے کتاب لکھی تھی۔ انہیں اس ریسرچ پر 1980 میں نوبیل انعام دیا گیا تھا۔
