شیموگہ :۔حلال کٹ سے ملنے والی آمدنی کو دہشت گردی کی سرگرمیوںکیلئے استعمال کیاجارہاہے،اس لئے ہم حلال کی ہوئی چیزوں کابائیکاٹ کررہے ہیں اور اس مہم کی پُرزور تائید کرینگے۔میں نے زندگی میں کبھی بھی حلال کٹ گوشت کا استعمال نہیں کیاہے۔اس بات کااظہار رکن اسمبلی کے ایس ایشورپانے کیاہے۔انہوں نےحلال کٹ مہم کی مخالفت کررہے وی ایچ پی کارکنوں کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ دوسروں کے خداکے نام پر ذبح کئے ہوئے گوشت کو ہم کیوں کھائیں،یوگادی کے تہوارکے موقع پر جس طرح سے حلال کٹ کا بائیکاٹ کیاگیاتھا،اسی طرح سے دیوالی کے موقع پر بھی حلال کٹ کا بائیکاٹ کیاجائیگا۔مزید انہوں نے کہاکہ ساورکر مجاہد آزادی نہیں تھا،یہ دلیل پی ایف آئی کے کارکنان دے رہے تھے،لیکن انڈومان نکوبارجیل کی فہرست میں ساورکر کانام مجاہدین آزادی کی فہرست میں شمارکیاگیاہے تو کیایہ بات غلط ہے؟۔واضح رہے کہ ایشورپانے کہاکہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی حلال گوشت نہیں کھایاہے لیکن شیموگہ کے کم وبیش مسلمانوں کی دعوتوں میں انہیں مسلمانوں کے یہاں شرکت کرتے ہوئےنہ صرف گوشت کھاتے ہوئے دیکھاگیاہے بلکہ نلیاں اور بوٹیاں تک وہ کھاتے رہے ہیں،جس کے ثبوت کئی جگہ پر موجودہیں۔شادیوں کےعلاوہ ایشورپانے افطارکی دعوتوں میں باقاعدہ کھانا کم حلال گوشت زیادہ کھایاہے،اب وہ اپنے آپ کو حلال گوشت نہ کھانے والوں میں شمار کررہے ہیں جو کہ کھلا مذاق ہے۔
