بھٹکل : جماعت اسلامی ہند کی ملک گیر مہم ’ رجوع الی القرآن ‘ کی افتتاحی تقریب کاانعقاد 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بھٹکل:۔وہ عرب جنہیں اپنی عربی زبان پر فخر تھا ،عربی شاعری کو سب سےاعلیٰ مانتے تھے اپنے سوا کسی کو کچھ نہیں سمجھتے تھے مگر جب قرآن مجید نازل ہواتو اس کےکلام سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کی زبان پھیکی پڑ گئی اور اس کے کلام سے ایسےمتاثر ہوئے اور اس کے علم بردار بنے ۔ جو کوئی قرآن مجید کو خالی الذہن کر مطالعہ کرتاہے تو ضرور ہدایت کی توفیق ہوگی۔ مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے چیف قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وہ یہاں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ملک گیر سطح پر 14تا 23اکتوبر تک منائے جانے والی 10روزہ ’’ رجوع الی القرآن ‘ ‘مہم کی مناسبت سے  14اکتوبر 2022 بروز جمعہ کی شام  دعوت سنٹر میں منعقدہ مہم کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپر خطاب کر رہے  تھے۔ مولانا نے کہاکہ قرآن میں آج بھی وہی قوت و تاثیر ہے ، جماعت اسلامی ہند ملت اسلامیہ کو قرآن سے جوڑنے کےلئے جس مہم کو منا رہی ہے اس سے استفادہ کرتےہوئے عوام کو ، دنیا کو قرآن کی طرف رجوع کریں ، قرآن کے تمام حقوق کو ادا کریں ، آج دنیا جن مسائل سے دوچار ہے وہ دراصل قرآن سےرجوع نہیں ہونےکی بنا پر ہونے کی بات کہی۔ تقریب کا آغازجامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد مولانا سید سالک برماور ندوی کے ’’تذکیر بالقرآن ‘‘سے ہوا۔ مولانا نے بتایا کہ قرآن موعظت ، شفاء، ہدایت اور رحمت ہے۔ قرآن سے نصیحت حاصل کرنےکےبعد دلوں کے اندر موجود تکبر، اناپرستی ، نفرت جیسے بیماریاں شفاء پاتی ہیں اور ہدایت کی زندگی سرتاپا رحمت بن جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن کے 5حقوق ہیں ایمان ، تلاوت، تدبرو تفکر، عملی نفاذ اور عام انسانوں تک اس کا پیغام پہنچانا۔ ان حقوق کی مختصر تشریح کرتےہوئے مولانا نے کہاکہ ہماراایمان موروثی نہ ہو بلکہ شعوری ہو، تبھی عظمت و احترام ہوگا۔ قرآن پر تدبر ، غوروفکر کرنے سے دل روشن ہوجاتا ہے اور دنیا و آخرت میں راحت میسر آتی ہے۔ اس وقت غور کرنےوالی بات یہ ہےکہ قرآن سے کون فائدہ اٹھا ر ہے ہیں ، اگر ہم فائدہ نہیں اٹھار ہے ہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہمیں قرآن سے دلچسپی نہیں ہے ۔ جب سورج کو گھر کےجزدانوں میں لپیٹے رکھ کر اندھیاروں کو دور کرنا چاہیں تو کیسے دور ہوگا۔ وہیں ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئےکہ قیامت کےدن اللہ کےرسول ؐ نے قرآن کےمتعلق جو سوال پوچھیں گے توکیا اس کا جواب دینےکےاہل ہیں کیا ہم کہہ سکیں گے کہ ہاں ہم نے قرآن کو پکڑے رکھا تھا۔ اس کی تلاوت ، غورو فکر اور زندگی میں نفاذ اور دنیائے انسانوں تک پہنچانا ہمار ی ذمہ داری ہونےکی بات کہی۔عبدالروؤف سونور نے ملک گیر مہم کے مقاصد ، مقامی پروگرام کی تفصیل بتائی ۔ امیرمقامی مولانا سید زبیر نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہو ئے کہاکہ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ملک گیر سطح پر 10روز تک یہ مہم منائی جائےگی ۔ دراصل مسلمان قرآن پر عمل کریں گے تو ہی دعوت کے فریضہ کو انجام دے سکتےہیں۔ ہم مخلص بن کر قرآن کے پیغام کو عوام تک پہنچائیں ۔ مہم کے دوران  برادران ملت کو قرآن کی تعلیم مع تجوید ،خطبہ جمعہ ، قرآن اسٹڈی سرکل ، قرآن کلاسس ، شہر سے غیر منسلک مقامات یا مساجد میں شبینہ مکاتیب ،مساجدکو ترجمہ قرآن کاتحفہ ،  گھروں میں روزانہ 20منٹ قرآن مع ترجمہ تلاوت ،رشتہ دار، دوست احباب کو ترجمہ قرآن خریدنےکی ترغیب اور قرآنی تعلیمات پر عمل آوری کیلئے دعوت دی جائیگی ۔بچوں اور نوجوانوں میں قرآن سے رغبت پیدا کرنے کیلئےآن لائن کوئز مقابلہ کابھی انعقاد ہوگا جہاں مساہمین کو نقد انعام سے نوازا جائیگا ۔ اسی طرح قرآن فہمی پر مشتمل کتابچے فولڈرس وغیرہ کی تقسیم کی جائیگی ۔ ناظم ضلع محمد طلحہ سدی باپا نے شکریہ کلمات ادا کئے تو مولوی عبدالسبحان ندوی نےنظامت کے فرائض انجام دئیے۔