مسلم پرسنل لاء بورڈ نے خواتین ونگ کو خاموشی سے کیا تحلیل 

سلائیڈر نیشنل نیوز
فیصلے پر چوطرفہ تنقید،کنوینر، رکن عاملہ ڈاکٹر اسماء زہرا نے کہا،مجھے خط کے ذریعہ تحلیل کی خبر ملی
دہلی/ممبئی:۔ایسا لگتاہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے اور مسلمانوں کا یہ متفقہ بورڈ انتشار اور سیاست کا شکار ہے، بورڈ نے متحرک رہنے والی خواتین ونگ کو بغیر کوئی وجہ بتائے تحلیل کرد یا ہے ، اور اس کی ساری سرگرمیوں پر پابندی لگادی ہے،نیز یہ بھی بحث کا موضوع ہے کہ بورڈ نے اراکین عاملہ کی حالیہ میٹنگ میں تمام اراکین عاملہ کو مدعو تک نہیں کیا، رکن عاملہ ڈاکٹر اسماء زہرا یہاں تک کہتی ہیں ہیں کہ مجھے اس کی اطلاع تک نہیں-حیرت یہ ہے کہ بات بات پر پریس بیان جاری کرنے والے بورڈ کی عاملہ کی میٹنگ کی کوئی اطلاع اردو اخبارات میں بھی نہیں آئی اور خواتین ونگ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی پراسرار طور پر چھپالیاگیا جس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں- خواتین ونگ کی تحلیل کے بعد ڈاکٹراسماء زہرا نے اراکین عاملہ کو خط بھی لکھا اور وجہ بھی پوچھی، چنانچہ معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے جوابی خط میں اعتراف کیاہے کہ اقدامی کوشش کی بجائے ہمارے نفاق اور شقاق اور ہماری نفسیاتی بیماریوں نے ہمیں دفاعی تدبیریں کرنے کے لائق بھی نہیں چھوڑا، انھوں نے بورڈ کی قیادت کے احساس کمتری،حسد، اور ذاتی اغراض ومفادات کی طرف بھی اشارہ کیاہے۔ واضح رہے کہ بورڈ کے سابق جنرل سیکرٹری مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ نے میڈیا کے پروپیگنڈے کا عملی طور پرجواب دینے کے لیے خواتین ونگ کی تشکیل کی تھی جس کی چوطرفہ پذیرائی ہوئی، ڈاکٹراسماء زہرا کی قیادت میں اس کی تحریک کافی سرگرم رہی ہے، ہیلپ لائن کے اجراء، دستخطی مہم اور احتجاج اور تحریک اصلاح معاشرہ  کے ذریعہ اس ونگ نے خواتین کے درمیان بڑا کام کیا، اب کس وجہ سے خاموشی کے ساتھ خواتین ونگ کو تحلیل کیا گیا، یہ اب تک سامنے نہیں آئی ہے، بلکہ ڈاکٹر اسماء زہرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے اس معاملہ پر صدر بورڈ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے ملنے نہیں دیاگیا،بلکہ اب تو بورڈ کے صدر گویا برائے نام نہیں، دوسرے لوگ من مانی کررہے ہیں، اور اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آرام پسند قیادت نہیں چاہتی کہ کوئی متحرک ہوکر کام کرے،کچھ تنظیمیں بورڈ کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں، حجاب کے مسئلے پر جب ہم نے بورڈ کی قیادت سے آگے بڑھنے کی اپیل کی تو یہ لوگ بچتے نظر آئے، ایسے وقت میں ہم قوم کی بچیوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ سال بھر سے ہمیں ٹارچر کیا جارہاتھا اور میں نے برملا ذمہ داروں سے کہا بھی تھا کہ آپ مسلم خواتین کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں جو بی جے پی مسلمانوں کے ساتھ کررہی ہے، میرے کسی سوال کا تشفی بخش جواب نہیں دیاگیا۔اب یہ معاملہ طول پکڑتاجارہاہے اور پیغام یہی جارہاہے کہ موجودہ قیادت کو برداشت نہیں کہ ان کے نام کے بغیر کوئی سکہ چلے۔