پرنسپل مشتاق احمد ملّا۔’’ایک ادبی، علمی و فعال شخصیت‘‘

مضامین
’بے باک‘ و’ بے مثال‘ ان دولفظوں میں ’بے‘ ایک مشترکہ لفظ ہے جس کے لفظی معنی ہیں’’حد سے زیادہ‘‘ ۔ جب کوئی کام قول و فعل کی شدت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے تو وہ کام اپنے آپ میں بے مثال بن جاتا ہے اور جب کوئی بات پورے یقین و اعتماد کے ساتھ کی جاتی ہے تو وہ بات ’بے باک‘ کہلاتی ہے۔ حالانکہ بے باکی و بے مثالی دو الگ الگ قول و فعل ہیں جو مختلف اوقات اور مختلف کارناموں کے انجام دیئے جانے پر اعزازی طور پر کہے جاتے ہیں۔ جب کسی شخص میں یہ دونوں خوبیاں بیک وقت موجود ہوں تو اس شخص کا وقار اور بڑھ جاتا ہے۔
ایسی ہی ایک پُر وقار شخصیت آج ہمارے درمیان موجود ہے۔ جناب مشتاق احمد یس ملا صاحب، پرنسپل ٹیپو شہید ٹیکانولوجی انسٹی ٹیوٹ، ہبلی۔ یہاں پر ایک سوال کا اٹھنا لازمی ہے کہ بھلا ایک ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ دار پرنسپل صاحب کو سیاسی، سماجی اور شعر و ادب کی سرگرمیوں سے کیا سروگار؟
لیکن حیرت کی بات ہے کہ محترم مشتاق احمد ملا صاحب کو اردو ادب، شعر و سخن اور سماجی و سیاسی سرگرمیوں کے تمام ادب و آداب سے اچھی طرح واقفیت حاصل ہے۔فُرصت کے اوقات میں دینی و ادبی کتابوں کا مطالعہ آپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔اگر ہم اور آپ براہِ راست ان سے کسی بھی مسئلہ پر گفتگو کرنا چاہیں تو ہماری توقع سے زیادہ انہیں محوِ گفتگو پائیں گے۔
آج کے اس نفسا نفسی اور زبان و مذہب کے اختلافی جھمیلوں سے ہر شخص اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔لیکن ایسے حالات میں بھی محترم مشتاق احمد صاحب اپنے گھر یا اپنے انسٹی ٹیوٹ میں کسی نہ کسی تقریب کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حالات سے بیزار ہوکرزندگی ہارنے والوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ وہ ان سخت حالات میں بھی اردو کی بقاء ، ترویج و تدوین کی خاطر کچھ کر گزرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی پر روشنی ڈالی جانی چاہئے اور ان کے اسی جذبہ نے میرے قلم کو حرکت دی ہے۔
موصوف کی زندگی کو سمجھنے کیلئے ٹیپو شہیدانسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی، کا تذکرہ ناگزیر ہے ۔ ریاست کرناٹک کا یہ وہ واحد ادارہ ہے جہاں نصابی تیکنیکی تعلیم کے علاوہ موقعہ بہ موقعہ طلباء کی ہمہ جہتی ذہنی نشونما کے لئے مستقل پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔یہ پرنسپل مشتاق احمد ملا صاحب کی انتھک کوششوںکا نتیجہ ہے ۔نیز سماجی تقاضوں کو بھی ادارہ کے پلیٹ فارم سے پورا کیا جاتا ہے ۔ تما پروگراموں کی سرپرستی اور نگہبانی پرنسپل صاحب خود کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے خود مختار ادارے’’یونیورسٹی گرانٹ کمیشن‘‘ ،’’آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن نئی دہلی‘‘ اور ’’منسٹری آف ہیومن رسیورسس‘‘ کی جانب سے طلباء کے مفادات کی خاطر جاری ہونے والے تمام سرکیولرس کے انعقاد کو اعلیٰ پیمانے پر بڑے ہی منظم انداز میں ادارہ سرانجام دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے مذکورہ اداروں بالخصوص ریاستِ کرناٹک کے ٹیکنیکل ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کی نگاہ میں مشتاق احمد ملا صاحب نے اپنا منفرد مقام بنالیا ہے۔ نیز ادارہ کے پروگراموں کی رپورٹنگ کنڑا، انگریزی اور اردو اخبارات میں شائع ہواکرتی ہیں اسی لئے پریس اور عوام و خواص میں بھی وہ اپنا مقام بناچکے ہیں۔
ادبی حلقوں میں وہ اس وقت بہت زیادہ چرچا میں رہے جب انہوں نے رواں سال5؍ ستمبر 2022کے دن’’ یوم ِ اساتذہ‘‘ کے موقع پر اپنے جانے پہنچانے مخصوص حلقۂ احباب کے ساتھ ایک پُر لطف نشست کا انعقاد کیا۔اس میں انہوںنے اپنے دیرینہ پرائمری و ہائی اسکول کے وظیفہ یاب بزرگوار اساتذہ کرام کی گلپوشی و عزت افزائی کرکے ایک انوکھی مثال پیش کی ۔ مشتاق احمد ملا نے اپنی رہائش گاہ پر ایک تہنیتی پروگرام کا انعقاد کیا تھا، جس میں شعبۂ تدریس سے تعلق رکھنے والے شریک رہے ۔نیزذی حیات ان اساتذہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا جن سے انہیں ابتدائی تعلیم نصیب ہوئی تھی اور وہ محترم حضرات اب اپنی عمروں کی نویں دہائیوں میں ہیں۔یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا کہ نویں عمر کے اساتذہ کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا جائے، لیکن انہوںنے اس کارنامہ کو انجام دیا جس کی ستائش اندرون و بیرون ممالک سے بھی کی گئی۔اس موقع پر اساتذہ کرام سے بڑے ہی انکساری کے ساتھ اپنی ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’’ ہمارے اساتذہ کی محنت ہی ہماری زندگی میں کامیابی اور ترقی کی اصل وجہ ہے ۔‘‘موصوف نے بڑے ہی سیدھے الفاظ میںکافی گہری بات کہی ہے جسے میں کبھی نہیں بھلا سکتا۔ انہوںنے اپنی تمام تر کامیابیوں کا ذمہ داراساتذہ کو ٹہرادیا جو اپنے آپ میں ایک ٹھوس حقیقت اور اساتذہ کے تئیں محبت و الفت کا ایک اعلیٰ معیار ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف کے مزاج میں انکساری بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ غالباََ انہو ں نے علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنایا ہے۔
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزاربنتا ہے
قوم و مذہب کے اس تعصبی دور میں اردو دشمنی بھی آج کل زوروں پر ہے۔ جس کی وجہ سے اردو زبان روز بروز یتیم ہوتی جارہی ہے ۔ اردوادب، شعر و سخن کی محفلیں اور مشاعرے اب برائے نام کہیں کہیں منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ عوام الناس میں ذوق ِ ادب، سلیقہ و شائستگی اور انداز و گفتار میں وہ چاشنی باقی نہیں رہی۔ریاستی سطح پر کالجوں اور تعلیمی اداروں میں اردو برائے نام سیکھی و سکھائی جاتی ہے۔ لوگوں میں اب یہ سوچ زور پکڑ چکی ہے کہ اردو سیکھنے اور سکھانے سے سرکاری ملازمت تو کیا چھوٹی موٹی نوکریاں بھی ملنا اب نا ممکن ہوکر رہ گئے ہیں۔
پھر بھی ایسے دورِ مخالفت میں چند باشعور اور حساس سوچ رکھنے والے ادب نواز حضرات آج بھی موجود ہیں۔
ایسے ہی با ہمت اور نیک ہستیوں میں جناب مشتاق احمد ملا صاحب بھی ایک ہیںجو عنقریب ریٹارمنٹ کی دہلیز پر ہیں۔ اپنی 38؍ سالہ سروس میں آپ نے اس ادارے کو اپنی ذہانت اور خوش اسلوب اخلاق حسنہ سے سنوارنے اور ابھارنے میں ہر لمحہ صرف کیا ہے ۔ مشتاق احمد ملا صاحب کالج میں تو پوری طرح اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ طلباء کے مسائل، اسٹاف کے ساتھ مختلف موضوعات پر میٹنگس اور ٹیکنیکی معاملات و امور پر توسیع کا کام وغیرہ۔ یوںلگتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری حق جنون کی حد تک اداکرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس گھر پر یا کسی ادبی نشست میں ان سے ملاقات ہوجائے تو ان کا دوسرا روپ دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تو کوئی دوسری ہی شخصیت ہے جو اردو ادب کو اپنی روح میںبسائی ہوئی ہے جو کالج کی مشینی اور تکنیکی زندگی سے فراغت پا کر اپنے گھر لوٹ آئی ہے ۔
یہاں پر اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ موصوف ہبلی کے مشہور ادارے’’ادارۂ فروغ اردو ہبلی‘‘ کے نائب صدر ہیں۔ مذکورہ ادارہ کئی سالوں سے اردو کی ترقی و ترویج کیلئے کام کررہا ہے۔ اسی ادارے کے تحت کچھ سال قبل ہبلی کا وہ آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہوا تھا جس میں منور رانا، وسیم بریلوی، اقبال اشہر اور نعیم اختر نے اپنا کلام سنایا اور خوب داد و تحسین بٹورا تھا۔ حالیہ دنوں میں ’’انجمن ترقی اردوہند‘‘ کی ہبلی میں شاخ قائم ہوئی جس کے لئے اتفاق رائے سے مشتاق احمد ملا صاحب کو صدر منتخب کیا گیا ۔
محترم مشتاق احمد صاحب اپنے قد و قامت ، رکھ رکھاؤ اور شائستہ لباس سے کوئی انگریز پروفیسر جیسے لگتے ہیں ۔ مگر اندروونی طور پر نہایت شفیق ، ملنسار اور نرم میٹھی گفتار سے لوگوں کے دلوں پر اپنی ایک خاص پہنچان بنائے ہوئے ہیں۔اردو اور فارسی کی ملی جلی مٹھاس کے علاوہ انگریزی، ہندی اور علاقائی زبان کنڑی پر بھی آ کو قدرت حاصل ہے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ آپکو اردو ادب اور شعر و سخن سے اس قدر گہری دلچسپی ہے کہ ہندو پاک کے بہت سارے نامور ادباء و شعراء سے باقائدہ خط و کتابت اور فون و انٹرنیٹ پر روابط ، گفتگو اور تحفہ تحائف کا سلسلہ برابر جاری و ساری کئے ہوئے ہیں ۔
حالیہ دنوں مشاق احمد ملا کی اردو سے محبت اور اردو نوازی کی مثال دیکھنے کو ملی ۔ ہوا یوں کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک گورنمنٹ اردو اسکول کا نام نہایت ہی بے ڈھنگے اور بھدے طریقہ سے جلی حروفوں سے لکھا گیا ہے تو یہ دیکھ کر ان سے برداشت نہ ہوسکا ۔ انہوںنے ایک پینٹر جو اچھے خطاب بھی ہیں کو بلا کر کہا کہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے اجازت لے کر اسکول کا نام صحیح طریقہ سے لکھ آئیں۔ روغن و دیگر چیزوں اور محنتانہ کا خرچ خود موصوف نے اٹھایا ۔ اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو موصوف کے دل میں بسی ہوئی اردو کی محبت پر دلالت کرتے ہیں۔
فلمی دنیا کے عظیم فنکاروں اور شعر وسخن کے نامور ہستیوں سے بھی آپ کی خاص پہنچان ہے۔مشہور فلمی رائٹر ، ادیب و شاعر محترم گلزار صاحب، محترم منور رانا، وسیم بریلوی، نعیم اختراور محترم عزیز بیلگامی سے ہمکلامی اور ان کے شعر سخن سے فیض حاصل کرنے کا شرف آپ کو حاصل ہے۔کِسی ضمن میں مشاق احمد ملا کے لکھے گئے مکتوب سے فلمساز رائیٹر گلزار اس قدر متاثر ہوئے کہ فوری طور پر فون سے رابطہ قائم کیا اور تقریباًآدھا گھنٹہ گفتگوکی۔ بعدازاں گلزار صاحب نے اپنی نظموں کا مجموعہ’’بال و پر سارے‘‘ اور ایک انگریزی کتاب انہیں بذریعہ ڈاک روانہ کی، جس میں انہوںنے اپنی دستخط کے ساتھ محترم مشتاق احمد ملا کے تئیں نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ گلزار جیسی عظیم شخصیت جسے داداصاحب پھالکے ایوارڈ ، 20سے زائد فلم فیئر ایوارڈ اور کئی ایک نیشنل ایوارڈز، ساہتیہ ایوارڈ اور گرامی جیسے بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔بعد ازاں ہوا یہ کہ ’’دی ہندو‘‘ کے آل انڈیا ایڈیشن کے صفحہ اول پر جہاں انتہائی اہم قومی و بین الاقوامی خبریں شائع ہوتی ہیں۔ اس صفحہ پر گلزار صاحب کی ملا صاحب کو ارسال کردہ کتابیں اور ملا صاحب کا فوٹو شائع ہوا۔ اخبار دیکھنے کے بعد گلزار صاحب نے فوراََ فون پر رابطہ قائم کیا اور ملا صاحب کو مبارکباد دی۔ اپنی بے انتہا مصروفیت کے باوجود گلزار صاحب نے مشتاق احمد ملا سے مراسم بنائے رکھا ہے۔ خط و کتابت اور اہم موقعوں پر فون پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔یہ بات کرناٹک کے اردو دان اور اردو نوازوں کیلئے باعثِ فخر ہے۔
 پرنسپل مشتاق احمد ملا صاحب کے روابط و مراسم تو کئی ایک اہم شخصیات سے رہے ہیں۔لیکن وہ اپنا آئیڈیل اپنے والد کو مانتے ہیں جبکہ ان کے والدصاحب پیدائشی گونگے و بہرے تھے۔ انہوں نے غربت کے ساتھ تمام عمر ایک کچے مکان میں گزاری تاہم اپنے پانچوں لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ نتیجتاََ مشتاق احمد ملا شمالی کرناٹک کے معروف ادارہ’’ ٹیپو شہید انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پالی ٹیکنک ہبلی‘‘ کے پرنسپل ہیں۔ ان کے دو بھائی ڈاکٹر ہیں اور دو بھائی انفرادی طور پر اپنا کاروبار سنبھالے ہوئے ہیں۔ مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ علم کے قدرشناس اس گونگے اور بہرے شخص کی تیسری نسل کے بچے اور بچیاں بھی ایم بی بی ایس اور سائنس میں پوسٹ گرایئجویٹس ہیں۔
مشاق احمد ملا نے جب اپنے والد مرحوم پر ایک مضمون’’ ایک مسافر ایک کارواں‘‘ لکھا اور وہ مضمون اردو کے بیشتر اخبارات میں شائع ہوا تو اردو کے ادبی حلقوں میں کافی پسند کیا گیا۔ واضح رہے کہ 1972ء میں ریلیز فلم’’ کوشش‘‘ کے مرکزی کردار گونگے اور بہرے تھے جو اپنی غربت کے باوجود اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ یہ فلم رائٹر گلزار نے خود ڈائرکٹ کی تھی اور اس فلم کیلئے کہانی کار بھی وہی تھے۔ محترم مشتاق احمد ملا صاحب کے والد سید غوث ملا فلم سے نہ صرف کافی متاثر ہوئے بلکہ ترغیب بھی پائی۔ انہوںنے اپنی ہنر مندی کا رات دن استعمال کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ ہاتھ لگے اور بچوں کی تعلیم کیلئے استعمال میں آئے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت پر بھی اپنی توجہ جاری رکھی۔
جب گلزار صاحب کے مشتاق احمد ملا سے مراسم بڑھے اور انہیں پتہ چلا تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ یوں بھی یہ فطری بات ہے کہ آخر اس شخص کو خوشی اور روحانی مسرت کیوں نہ ہوگی جس کی تخلیق سے ترغیب پاکر کوئی شخص اپنی اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت پر اپنی زندگی لگادیتا ہے اور انہیں کامیاب زندگی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ مشتاق احمد ملا پر لکھی گئی عزیز بیلگامی کی توشیحی نظم کا یہ شعر ان کے والد پر پوری طرح صادق آتا ہے۔
ـ’’قلم ہے علم‘‘ تھے الفاظِ والد مرحوم
اگرچہ قوتِ گویائی سے تھے وہ محروم
سماجی و سیاسی کارکردگی میں بھی آپ کا رجحان قابل تعریف ہے۔ ہر مہینے اپنے انسٹیٹیوٹ میں مختلف موضوعات پر سمینار، جلسے و قومی تہوار وغیرہ منظم طریقوں سے مناتے رہتے ہیں۔ ان کے علاوہ اپنے دولت کدہ پر بھی چھوٹی بڑی علمی و ادبی نشستیں منعقعد ہوتی رہتی ہیں۔
قابل ستائش بات یہ ہے کہ گھر میں آپ کی شریک حیات بیگم صاحبہ اور اہل خانہ کے سبھی افراد نہایت خلوص کے ساتھ ان تقریبات کی میزبانی میں آپ کے دوش بدوش ساتھ دیتے ہیں۔محترم مشتاق احمد صاحب اپنے فرصت کے لمحات دینی و ادبی کتابوں کے مطالعہ میں صرف کرتے ہیں۔ آپ کا کمرہ اچھی خاصی لائبریری کی مانند ہے۔ ہندوپاک کے نامور ادباء و شعراء کے تصنیفات اور مجموعہ کلام بڑی حفاظت اور سلیقہ و ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔
مشتاق احمد ملا صاحب کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ پرائمری اسکول کے زمانے میں وہ ہندوستان کے ادبی رسائل بشمول ’بیسوی صدی‘ پڑھا کرتے تھے ۔ لکھنے کے شوق کا یہ عالم تھا کہ چھٹی جماعت میں پڑھ رہے ملا صاحب نے ایک فلمی اداکار کی سالگرہ پر مبارکباد کا خط لکھا تھا۔ اتفاقاً جوابی خط مع دستخط شدہ تصویر کے موصوف کے والدہ کے ہاتھ لگا تو وہ سخت ناراض ہوئیں اور مشتاق احمد ملا صاحب کی کافی سرزنش ہوئی۔ والدہ محترمہ کو تشویش ہوئی کہ چھٹی جماعت میں صاحبزادے نے بمبئی تک ربط بنائے رکھا ہے تو پتہ نہیں ہائی اسکول اور کالج میں یہ کس دھارے میں بہہ جائیگا۔
بہرحال جب آپ کے دو مضامین’’1968 ہبلی کا پہلا اور یادگار مشاعرہ‘‘ اور ’’53سال پرانا ہبلی کا آل انڈیا مشاعرہ۔کچھ اور یادیں‘‘ مختلف اخبارات میں شائع ہوئے تو ادبی حلقوں میں وہ مضامین کافی پسند کئے گئے ۔ موصوف نے ان مضامین کی تیاری میں بہت محنت و لگن سے کام کیا تھا۔ نصف صدی پہلے منعقد ہوئے اس آل انڈیا مشاعرہ کی صدارت فلمی دنیا کے مشہور اداکار اور اردونواز شخصیت شری بلراج ساہنی نے کی تھی یہ مشاعرہ اسٹیشن روڈ ہبلی پر واقع اپنے وقت کے معروف صنعتی ادارے’’ اے کے انڈسٹری‘‘ کے احاطہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس یادگار مشاعرہ کی روداد سے نئی نسل کو روشناس کرانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ پھر بھی مشتاق احمد ملا صاحب نے مشاعرہ کے آرگنائزرس سے ملاقات کی اور مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ان تمام بقید حیات شعرائے کرام سے رابطہ کیا اور ان کا وہ کلام حاصل کیا جو مشاعرے میں پڑھا گیا تھا۔ ان کی اس جدوجہد کے نتیجہ میں ایسا مضمون پڑھنے کو ملا گویا کہ مشاعرہ نصف صدی قبل نہیں بلکہ حال ہی میں منعقد ہوا ہے۔ مشتاق صاحب کو فون پر قارئین کے آئے متعدد فون کالس کے مختلف سوالوں میں ایک مشترک سوال یہ ہوتا کہ 53 سال پرانے مشاعرہ کی منظر کشی کرنے والے اپنی عمر کی 90 بہاریں ضرور دیکھی ہونگی؟ جواب ہوتا کہ کسی مضمون کی تیاری کیلئے مطلوبہ مواد مکمل طورپر دستیاب ہوجائے تو مضمون کے بنانے و سنوارنے میںاور اس میں رنگ بھرنا آسان ہوجاتا ہے۔ ادبی نقطۂ نظر سے خشک اور بنجر زمین(ہبلی ) کے بعض قلمکاروں نے شعر و ادب کی آبیاری میں اپنا خون پسینہ ایک کرکے شعر و سخن کے ایسے گل بوٹے کھلاتے رہے ہیں جس پر دنیائے شعر و ادب کو ناز ہے۔ مشتاق ملا صاحب ان دنوں ہبلی کے اردو شعراء ، ادباء اور ادبی تنظیموں کی جانفشانیوں پر مشتمل سو سالہ تاریخ کی ترتیب میں لگے ہوئے ہیں۔
سماجی و سیاسی حلقوں میں بھی مشتاق احمد ملا صاحب کا حلقۂ اثر کافی بڑا ہے ۔ وہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال بھی اردو کی آبیاری کیلئے ہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جس کی ایک مثال این ڈی ٹی وی کے مشہور اینکر رویش کمار سے ہوئی خط و کتابت ہے۔موصوف کے مراسم اینکر رویش کمار کے ساتھ بڑے گہرے ہیں۔ مراسم کی شروعات اس وقت ہوئی جب رویش کمار نے اعظم گڑھ میں واقع’’مولانا شبلی کالج‘‘ کے کیمپس اور لکھنو میں منور رانا کا انٹرویو لیا تھا۔ جنہیں دیکھنے کے بعد ملا صاحب نے رویش کمار کو خط لکھا کہ رپورٹنگ کے موقع پر اگر مناسب اشعار بھی استعمال کئے جائیں تو رپورٹنگ میں مزید چاشنی پیدا ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ آنجہانی ونود دوہا کیا کرتے تھے۔ خط کا رویش کمار نے فوری طور پر جواب دیا کہ پروگرام ’’ لائیو ٹیلی کاسٹ کرتا ہوں اگر بروقت موزوں اشعار یاد آجائیں تو ضرور استعمال کروں گا۔ ‘‘رویش کمار نے مشتاق احمد ملا صاحب کے مشورہ کو پسند کیا اور لکھا کہ ایک صحافی کیلئے ناگزیر ضرورت کی جانب آپ نے توجہ دلائی اس کیلئے بہت بہت شکریہ۔
وہ اس طرح بات سے بات نکالتے ہوئے اردو ادب کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
اسی طرح کنڑا فلموں کے مشہور ادارکار اننت ناگ کو خط لکھنے کا اتفاق ہوا تو انہیں یاد دلایا کہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف 1975 ء میں بنائی گئی شیام بینگل کی فلم ’’نشانت‘‘ میں آپ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مگر افسوس کہ اب اس طرح کی اصلاحی فلمیں نہیں بن رہی ہیں۔ آپ کو فلم انڈسٹری کا کافی تجربہ ہے نیز آپ کا سیاسی حلقہ میں اثر و رسوخ بھی ہے۔ اس لئے گزارش ہے کہ آپکوشش کریں کہ اس طرح کی سماجی اصلاحی فلمیں بنائی جائیں۔
اداکار اننت ناگ نے آپ کے خط کو سراہا اور جواباََ لکھا کہ توجہ دلانے پر آپ کا بہت بہت شکریہ۔ کوشش جاری رکھوں گا۔
کرناٹک کے مشہور شاعر عزیز بیلگامی نے یو ٹیوب چینل’’ سیدھی بات‘‘ کے ادبی پروگرام ’’ فکروفن شعر و سخن‘‘ کے لئے محترم مشتاق   احمد ملا سے ادبی و سماجی موضوعات کا احاطہ کرنے والا 45منٹ کا بصیرت افروز انٹریو لیا تھا۔ یہ انٹرویو’ یو ٹیوب‘ پر موجود ہے  ۔ آپ کو ادب و شعر و شاعری سے بے حد لگاؤ ہے۔ اردو کے نامور شعرائے کرام کے بیشمار اشعار آپکو ازبر یاد ہیں۔ اور وہ انہیں موقع و محل پر بڑے شوق سے دہراتے ہیں۔
ماشاء اللہ ! آپکی ازدواجی زندگی بھی علم و ادب کے دائرے میں بڑی پُر سکون اور خوشیوں اور محبتوں سے پُر نور ہے۔زندگی کے ہر پڑاؤ میں ساتھ دینے والی ہمسفر بیگم صاحبہ، اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ فرمانبردارلڑکے اور لڑکیاں اور ساتھ میں ننھے منے بچوں کی کلگاریوں سے مہکتا دمکتا چھوٹ سا خوبصورت گھر۔ یہ سب آپکی اوصاف و آداب کی ترجمانی کرتے ہیں ۔
ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ میں اپنی اڑتیس سالہ سروس اور 23؍ سالوں تک پرنسپل کے عہدے سے بے داغ سبکدوش ہونے کے بعد اپنی مصروفیات کے بارے میں پوچھے جانے پر آپ نے فرمایا کہ ’’ریٹائرمنٹ گورنمنٹ کی جانب سے ایک عمل ہے۔ جو ہر سرکاری ملازم کو اس سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں ٹیچر کبھی ریٹائر نہیںہوتے ، بلکہ وہ تاحیات ٹیچر ہی رہتے ہیں۔میرے وظیفہ یاب ہونے کے بعد میں نئی نسل کی ذہنی و فکری تربیت کا اہتمام کرنا چاہتا ہوں۔ اور خاص کر اردو زبان کی ترویج و فروغ اور اس کے رسم الخط کو ہر عام و خاص میں تشریح کرنا یہ میرے مشغولیات میں شامل رہینگے۔چونکہ زندگی کا بڑا حصہ تکنیکی ایجوکیشن میدان میں گزرا ہے،چنانچہ مذکورہ میدان میں میری خدمات حاضر رہیںگی۔ــ‘‘
الغرض! محترم مشتاق احمد ملا صاحب کے اس جذبۂ ایثار و خدمت کی قدر کرتے ہوئے میں دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کے ان نیک ارادوں اور نصب العین کو سرخروئی و کامیابی عطا فرمائے۔آمین
اخیر میں بنگلور سے نشر ہونے والے پروگرام ’’فکر و فن، شعر و سخن‘‘ کے کنوینر اور اردو ادب کے نامور ادیب و شاعر محترم عزیز بیلگامی صاحب نے آپ سے ہمکلام ہوتے ہوئے آپ کی مدح میں ایک طویل توشیحی نظم نشر فرمائی ہے۔اس نظم کے چند اشعار کے ساتھ میرے اس مضمون کو اختصار کرتا ہوں۔
محبتوں کا پیکر ہے تو کوہ علم و ہنر
سپاہ جہل کے آگے رہا تو سینہ سپر
شعور و آگہی تیرے قلم کا خاصہ ہے
خلوص کا تری تحریری میں اجالا ہے
اساس زیست تری کس قدر ہے مستحکم
میں جانتا ہوں اے مشتاق کیا ہے تیر اغم
میں جانتا ہوں ترے دوست ادب کے خادم ہیں
ترے تو حضرت گلزار سے مراسم ہیں
ایاغ ہے ترا لبریز عشق کے مئے سے
عزیز ؔ تجھ کو بھلائے گا اب بھلا کیسے
میرے بڑے بھائی مرحوم شاعر حسینی بازؔ صاحب کے دو اشعار جو آپ کے حسنِ ادب کی ترجمانی کرتے ہیں، پیش عرض ہیں۔
اس کے قلب و جگر میں پوشیدہ
جذبۂ دیں و سرخیٔ ایماں
اس کی ہمت ہے قابل تعریف
قابلِ دید اس کا عزم جواں