لکھنو:۔ تصویر میں یہ جواں سال بچہ جو نظر آرہاہے، وہ مرچکا ہے، اس کی موت نہیں ہوئی بلکہ اسے قتل کیا گیاہے، قتل کرنے والے کوئی عام لوگ نہیں بلکہ پولیس والے ہیں، ہاں پولیس والے، جن کا معنوی نام بھارت میں، کرمنل غنڈوں کی گینگ ہوتاہے، اس ” پولیس گینگ ” نے لکھنؤ اور کانپور شہر کے درمیان واقع اناؤ ۔ کے فیصل کو قتل کردیا۔ فیصل کا جرم یہ تھا کہ اس نے لاک۔ڈاؤن کےخلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سبزی کی دوکان کھول لی تھی، کیونکہ اس کا پیٹ لاک۔ڈاؤن کی وجہ سے بھوک کی جہنم بنا ہوا تھا، اس کے بنیادی خرچ کا نفسیاتی دباؤ اذیت میں بدل چکا تھا ۔ یہ بیچار ہ غریب پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سبزی کی دوکان کھول کر بیٹھ گیا لیکن اسے یہ نہیں پتا تھاکہ اس کی یہ مجبوری پیٹ کی آگ کو ہمیشہ ہمیش کےلیے بجھانے والی ہے ۔ فیصل ابھی محض ۱۸ سال کا تھا، وہ سبزی منڈی میں سبزی بیچنے پہنچا تھا، اسی دوران لاک۔ڈاؤن کے گشتی سپاہیوں نے فیصل کو دوڑایا، دوڑا کر پیٹا اور پیٹتے ہوئے پولیس تھانے لت گئے، اور وہاں بھی اتنا پیٹا کہ اس کی موت ہوگئی ۔ یہ اترپردیش پولیس کی خباثت اور ظالمانہ نِیچ پَن ہے، انہوں نے یوگی کے راج میں پولیسیا ظلم و ستم اور غنڈہ گردی کو اپنے عروج پر پہنچا دیاہے، یوگی کے اترپردیش کسی جمہوری ملک کا صوبہ نہیں بلکہ ایک ” پولیس اسٹیٹ ” لگنے لگا ہے ۔ ان کی زبانوں پر ایسی ظلم خوری کی لت چڑھی ہیکہ، بچے کا نام فیصل سنا نہیں اور اس بیچارے پر لاٹھی ڈنڈوں سمیت چڑھ بیٹھے اور جان نکال کر ہی دم لیا۔ یہ ظلم اب ناقابل برداشت ہوچکاہے، کیا لاکڈاؤن کے بدلے میں بھی معصوموں کو جانیں قربان کرنا ہوں گی؟ بہرحال لاک۔ڈاؤن کے خلاف ورزی کےنام پر اترپردیش پولیس نے فیصل کو قتل کر سزائے موت دی ہے، دیکھتے رہیے یہ سسٹم قاتل پولیس والوں کو بدلے میں کیا دیتاہے؟ ۔ حالانکہ وقتیہ طور پر یو پی پولیس نے ظالم پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے وہ بھی تب جب مقامی لوگوں نے پولیس کی خبرلینے کے بعد خود تھانے میں پہنچائے ۔ ان حالات میں فیصل کے گھر والوں کیلئےالله صبر عطاء کرے کہ بھارت میںظالموں پر قہر نازل ہو۔
