چنئی:۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے)، تمل ناڈو پولیس اور مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں کوئمبٹور دھماکہ کیس میں پی ایف آئی کیرالہ کے سابق ریاستی سکریٹری اور ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے سی اے رؤف کے رول کی جانچ کر رہی ہیں۔رؤف کو جمعرات کی صبح این آئی اے نے کیرالہ کے پٹمبی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ وہ پلکڑ میں آر ایس ایس لیڈر سری نواسن کے قتل کا بھی ملزم ہے۔ کیرالہ پولیس نے اس معاملے میں سری نواسن کے قتل کے ایک اہم سازشی کے طور پر ان پر فرد جرم عائد کی ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ جب سے پی ایف آئی پر پابندی لگائی گئی تھی، رؤف کرناٹک اور تمل ناڈو میں چھپا ہوا تھا۔ جمیشا مبین جو 23 اکتوبر2022 کو کوئمبٹور کار دھماکے میں جل کر ہلاک ہو گئی تھی، کئی بار کیرالہ جا چکی تھی اور پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اسے پی ایف آئی نے وہاں پناہ دی تھی۔تفتیش کاروں کے مطابق دھماکے کے ایک اور ملزم فیروز اسماعیل نے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سے اپنے روابط کا اعتراف کیا ہے اور اس سلسلے میں اسے 2019 میں متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ فیروز نے تفتیش کاروں کو یہ بھی بتایا کہ اس نے کئی بار کیرالہ کا دورہ کیا تھا اور سری لنکا ایسٹر بم دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ محمد اظہر الدین سے ملاقات کی تھی۔ اظہر الدین اس وقت ویور سنٹرل جیل میں بند ہیں۔پی ایف آئی پر پابندی کے بعد ہڑتال کو منظم کرنے میں رؤف ایک اہم شخصیت تھے۔ اس دوران بسوں اور موٹر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیاں رؤف کے فون کی کال کی تفصیلات کا پتہ لگا رہی ہیں اور اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہیں کہ آیا اس کا مقتول جمیشا مبین اور اس کے چھ ساتھیوں کو تحریک دینے میں کوئی کردار تھا، جو کار بلاسٹ کیس میں یو اے پی اے کے تحت جیل میں بند تھے۔
