از قلم مدثر احمد شیموگہ. 9986437327
کرناٹک کے بھٹکل نامی چھوٹے سے شہر میں مسلمانوں کی نمائند ہ تنظیم مانی جانے والی جماعت المسلمین بھٹکل کے انتخابات ہوئے جس کی فہرست دیکھ کر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آج بھی مسلمانوںمیں حق و باطل کی شناخت کرنے کی طاقت ہے اور صحیح لوگوں سے اپنی نمائندگی کروانے کی فکر ہے ۔ جملہ 20 افراد کو مجلس میں نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا ہے ان میں خاص بات یہ بھی ہے کہ ان 20 اراکین میں سے 8 اراکین علمائے دین ہیں ، اس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بھٹکل کے مسلمان اپنے علماء کو اپنے نمائندوں کے طورپر منتخب کرتے ہوئے انکی عظمت کو مزید بڑھا رہے ہیں ۔ ملک و ریاست کی مسلم تنظیموں ، انجمنوں اور اداروں پر نظر ڈالتے ہیں تو اکثر ایسے لوگوں کو آپ عہدیدار پائینگے جو بدکار ، چاپلوس ، مخبر ، بدمعاش ، حرام کمائی کرنے والے ، داداگری کرنے والے ، غنڈے ، سیاستدان اور یہاں تک کہ زانی ہوتے ہیں جن سے مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کی توقع تو کیا سوچنا بھی بیکا ر ہے ۔ لیکن بھٹکل کی مجلس کی بات کی جائے تو اس تنظیم میں ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کیاجاتاہے جو قوم وملت کا جذبہ رکھتے ہوں ، جن میں خوف خدا ہو، جو اپنے معاملات اللہ کی رضااور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے سے حل کرتے ہوں ، جن میں اچھے برے کی تمیز ہواور مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے اپنے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوں ۔ ایسے لوگوں سے مسلمانوں کی نمائندگی ممکن ہے ورنہ جس طرح سے آج ملک بھر کے مسلم تنظیموں اور اداروں کا جائزہ لیں تو وہاں مسلمانوں کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے عہدوں اور پیسوں کے لئے مارے مارے پھرنے والے لوگ زیادہ ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں کی کئی نمائندہ تنظیمیں جو آزادی سے قبل عمل میں آئی ہیں اور آج بھی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کہلواتی ہیں وہ اپنے اپنے مفادات کی خاطر اب حکومتوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگے ہیں اور مسلمانوں کے نام پر اپنے آپ کو برتر بناکر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی زندگیوں کو خوشگوار بنانے کی راہ پر گامزن ہیں ۔ آج سنگھ پریوار کے اشاروں پر جس طرح سے مسلمانوں کی مجلسیں ، مسلمانو ں کی جماعتیں بنائی جارہی ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے قائدین میں ملّی جذبہ فوت ہوچکا ہے، خوف خدا سے وہ عاری ہوچکے ہیں ، انہیں اللہ پر توکل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے ایمان کو مضبوط سمجھتے ہیں ۔ اگر مسلمان اپنی انجمنوں کو نجس لوگوں سے پاک کرنے لگیں گے ، پولیس کے مخبروں ، حکومتوں کے چاپلوسوں اور بے ایمانوں سے اپنی تنظیموں اور انجمنوں سے دور رکھیں گے تو یقیناََ مسلمانوں کی قیادت کے لئے اچھے لوگ سامنے آسکتے ہیں ۔ اگر مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ ہر جگہ ظالموں اور بے ایمانوں کا دبدبہ ہے تو یہ غلط بات ہے ، اصل میں مسلمانوں کو اچھے لوگوں کے دبدبے کے تعلق سے سوچنا ہوگا ، جب یہ سوچ اور فکر ذہنوں میں جنم لیتی ہے تو خودبخود ظالم کمزور ہوجائینگے ۔ آخری زمانے میں باطل غالب آئینگے لیکن ان باطلوں سے لڑنے والے اور انہیں کمزور کرنے والے ہی حقیقی مسلمان ہونگے یہ پیشن گوئیاں بہت پہلے ہی مسلمانوں کے نبی ﷺ نے پیش کی ہے ۔اس وقت مسلمان اپنے لئے اچھا یم ایل اے ، ایم پی نہ صحیح کم از کم اپنے اداروں اور انجمنوں کے لئے اچھے لوگوں کا انتخاب کریں تو شاید قیادت کی کمی دور ہوسکتی ہے ۔ جب مسلمانوں کے اداروں اور انجمنوں و جماعتوں میں بے ایمان ، مخبروں اور بدمعاشوں کی بھرمار ہوگی تو کیسے مسلمان دوسروں پر غالب آسکتے ہیں ۔ آج کل مسلمان صرف ان لوگوں کو اپنا قائد مانتے ہیں جو کسی پولیس تھانے میں پہنچ کر مفاہمت کرلے یا پولیس والوں کے ساتھ دو چار باتیں کرلے ۔ بھلے ہی وہ انصاف نہ دلوائے اور پولیس کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کو قربان کردے ۔ ایسے لوگ مسلمانوں کے قائد نہیں بن سکتے بلکہ دلال کہلائے جاتے ہیں اور دلال کبھی اپنے فائدے کے بغیر کو ئی کام نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی کرنے دیتا ہے ۔ اس لئے مسلمان ہوش میں آئیں ۔ اپنے لئے قائد، لیڈر یا نمائند ہ چنیں نہ کہ دلالوں کاانتخاب کریں ۔ بھٹکل کے لوگ مبارکبادی کے حقدار ہیں جو ہمیشہ اپنے لئے قائدین کا انتخاب کرتے ہیں جو انکے ترجمان بن کر ابھرتے ہیں اور وقت آنے پر ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
