شیموگہ:پچھلے دس دنوں سےضلع بھر میں بڑے کے گوشت کی خریدوفروخت اور ذبح کو لیکر جس طرح سے محکمہ پولیس چاق وچوبند ہوچکی ہے،اُسی مدِنظر شہرمیں اب بڑے کے گوشت کے ہوٹلوں سے بڑ
ےکا گوشت غائب ہوچکاہے ،اس کی جگہ پر مرغی،انڈے ، مچھلی اور تیتر کا گوشت استعمال کیاجارہاہے۔شہرکے مختلف مقامات پر پولیس کے چھاپوں کے بعد ہوٹل مالکان نے طئے کیاہے کہ وہ اس تعلق سے پریشانی کا سامنا نہیں کرینگے اور جو قانونی طو رپر ہے ،اُس لحاظ سے ہی کاروبارکرینگے ۔حالانکہ چند ہوٹلوں کو بڑے کے گوشت کا استعمال کرنے کا لائسنس دیاگیاہے،باوجود اس کے ہوٹل مالکان کسی بھی طرح کاریسک لینا نہیں چاہ رہے ہیں۔وہیں آج شام شیموگہ دوڈاپیٹے پولیس تھانے کے حدودمیں آنے والےکباب کے دکانداروں کو پولیس نے بلاکر اس بات کی نصیحت کی ہے کہ وہ سخت قوانین کے مدِنظر بڑے کے گوشت کے کباب وغیرہ بنانا چھوڑیں ، اگر قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو سخت نقصان اٹھانا پڑیگا۔اس پردکانداروں نے پولیس کو یقین دلایاہے کہ وہ قانون کا ساتھ دینگے۔اچانک شیموگہ ضلع میں بڑے کا گوشت کے بندہونے کے بعد ہوٹلوں سے غائب ہونے والے پکوانوں کو گاہک بھی بُری طرح سے مس کررہے ہیں۔بیشتر گاہک ہوٹل میں بڑے کے گوشت کی ارمان لیکر پہنچ رہے ہیں،لیکن انہیں مرغیاں پیش کی جارہی ہیں،جسے بعض گاہک قبول کررہے ہیں ، اور بعض گاہک گوشت کی تلاش میں نکل رہے ہیں ۔ شہر کے معروف ہوٹل میزبان کے مالک محمد نوشاد کا کہنا ہے کہ گوشت کے بندہونے کے بعد نقصان تو ہورہا ہے ، لیکن متبادل راستہ یہی ہے کہ بڑے کے گوشت کو قانونی درجہ ملنے تک ناپکایا جائے تو ہی بہتر ہوگا ۔ قانون کی خلاف ورزی کرکے بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بجائے کاروبارمیں کچھ ترمیم کی جارہی ہے۔
ےکا گوشت غائب ہوچکاہے ،اس کی جگہ پر مرغی،انڈے ، مچھلی اور تیتر کا گوشت استعمال کیاجارہاہے۔شہرکے مختلف مقامات پر پولیس کے چھاپوں کے بعد ہوٹل مالکان نے طئے کیاہے کہ وہ اس تعلق سے پریشانی کا سامنا نہیں کرینگے اور جو قانونی طو رپر ہے ،اُس لحاظ سے ہی کاروبارکرینگے ۔حالانکہ چند ہوٹلوں کو بڑے کے گوشت کا استعمال کرنے کا لائسنس دیاگیاہے،باوجود اس کے ہوٹل مالکان کسی بھی طرح کاریسک لینا نہیں چاہ رہے ہیں۔وہیں آج شام شیموگہ دوڈاپیٹے پولیس تھانے کے حدودمیں آنے والےکباب کے دکانداروں کو پولیس نے بلاکر اس بات کی نصیحت کی ہے کہ وہ سخت قوانین کے مدِنظر بڑے کے گوشت کے کباب وغیرہ بنانا چھوڑیں ، اگر قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو سخت نقصان اٹھانا پڑیگا۔اس پردکانداروں نے پولیس کو یقین دلایاہے کہ وہ قانون کا ساتھ دینگے۔اچانک شیموگہ ضلع میں بڑے کا گوشت کے بندہونے کے بعد ہوٹلوں سے غائب ہونے والے پکوانوں کو گاہک بھی بُری طرح سے مس کررہے ہیں۔بیشتر گاہک ہوٹل میں بڑے کے گوشت کی ارمان لیکر پہنچ رہے ہیں،لیکن انہیں مرغیاں پیش کی جارہی ہیں،جسے بعض گاہک قبول کررہے ہیں ، اور بعض گاہک گوشت کی تلاش میں نکل رہے ہیں ۔ شہر کے معروف ہوٹل میزبان کے مالک محمد نوشاد کا کہنا ہے کہ گوشت کے بندہونے کے بعد نقصان تو ہورہا ہے ، لیکن متبادل راستہ یہی ہے کہ بڑے کے گوشت کو قانونی درجہ ملنے تک ناپکایا جائے تو ہی بہتر ہوگا ۔ قانون کی خلاف ورزی کرکے بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بجائے کاروبارمیں کچھ ترمیم کی جارہی ہے۔