ممبئی:۔تبدیلی مذہب کرانے کے الزام میں گرفتار عرفان خواجہ خان کی ضمانت پرر ہائی کی عرضداشت پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران دو رکنی بینچ نے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔دو رکنی بینچ کے جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس وکرام ناتھ کو سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بتایا کہ ملزم ایک سال سے زائد عرصے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے، ملزم کو اتر پردیش حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازعہ قانون اتر پردیش پروہبیشن آف ین لاء فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ کے تحت ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے بعد سے ہی ملزم جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے۔جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ملزم عرفان کے دفاع میں پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو مزیدبتایا کہ عرفان خان مرکزی حکومت کے زیر انصرام منسٹری آف ومن اینڈ چلڈرن ڈیولپمنٹ میں بطور ترجمان کام کرتا ہے نیز یو پی اے ٹی ایس نے ملزم پر جو الزام لگایا ہے کہ ہ وہ گونگے بچوں کو عمر گوتم کے کہنے پر اسلام قبول کرنے میں ان کی مدد کرتے تھے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ وہ عمر گوتم کو جانتے بھی نہیں ہیں اور نوئیڈا ڈیف سوسائٹی سے ان کا تعلق بھی نہیں۔ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے یو پی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔آج دوران کارروائی عدالت میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہرش پراشر، ایڈوکیٹ سارم نوید، ایڈوکیٹ کامران جاوید، ایڈوکیٹ مجاہد احمد ودیگر موجود تھے۔
