کسانوں کے قرضوں کی جبراًوصولی کے خلاف قانون بنایاجائیگا: بومئی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کسانوں کے قرضہ جات کی جبراًوصولی کیلئے جو طریقے اپنائے جارہے ہیں اُن کے خلاف روک تھام کیلئے قانون بنایاجائیگا،کسانوں کے املاک کی ضبطی اوراملاک کی نیلامی کے خلاف سخت قانون بنایاجائیگا اور کسانوں کو راحت دینے کیلئے حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جائیگی۔اس بات کااظہار وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کیاہے۔آج یہاں منعقدہ زراعتی میلے کے اختتامی اجلاس میں بہترین کارگردگی کرنے والے کسانوں کو ایوارڈس سے نوازاتے ہوئےکہاکہ کسان زراعتوں کیلئے قرضہ لیتے ہیں،اگر وہ کسی وجہ سے قرضہ جات کو بروقت ادانہیں کرتے ہیں تو انہیں مہلت دینے کی ضرورت ہے،جبراً وصولی کرنا،املاک کی نیلامی کرنا،زمینوں کو ضبط کرنانہیں چاہیے۔اس کیلئے کوآپریٹیو سوسایٹیوں او دیگر محکموں کو ہدایت دی گئی ہے اور جلد ہی اس تعلق سے قانون بنایاجائیگا۔کسانوں کے ملٹی پرپسس سوسائٹیاں سالانہ8تا10 کروڑ روپئے کا کاروبارکرتے ہوئے منافع کمارہے ہیں،دلالوں کوجو کمیشن جارہاتھا وہ کمیشن اب رُک گیاہے،بلکہ اس کمیشن کو خود کسان منافع کی شکل میں حاصل کررہے ہیں۔مچھلی پالن،مرغی پالن کے اداروں کو حکومت کی جانب سے تعائون کیاجارہا ہے،ساتھ ہی ساتھ دیہی علاقوں میں قرضے کے لین دین کاجونظام ہے،اُس میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے،اس کیلئے حکومت نبارڈ کے ساتھ بات کریگی۔اسکیل آف بیالنس میں تبدیلی لانے کیلئے مطالبہ کیا گیاہے۔مزید انہوں نے کہاکہ یکم نومبر سے یشسویتی منصوبہ کسانوں کیلئے پھر سے شروع کیاگیاہے،کسانوں کی مددکیلئے ڈیزل پرسبسیڈی دی جارہی ہے،آنے والے جنوری میں انٹرنیشنل گرین فیسٹیول(دال دانے) کا انعقادکیا جا ر ہا ہے۔اس موقع پر ریاستی وزیر برائے مالگذاری آراشوک،رکن اسمبلی کرشنا بائرے گوڈا،سابق وزیر اعلیٰ سدانندگوڈا،ایس وی سریش وغیرہ موجودتھے۔