حکومت چاہے تو پالسی برائے ترقی وامن کے لیے علماکا تعاون لے سکتی ہے: محمود مدنی

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔جمعیۃ علما ہند کے صدر محمود مدنی نے کہا ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن اور ملک کی ترقی کے لیے پالیسی بنانے میں علمائے کرام کا تعاون لینا چاہیے۔ محمود مدنی انڈونیشیا کے سیاسی، قانونی اور سیکورٹی امور کے رابطہ کار وزیر ڈاکٹر محمد محفوظ پر ردعمل کا اظہار کر رہے تھے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی پالیسی بنانے اور امن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں علمائے کرام کی مدد لی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا میں فرقہ وارانہ اور مذہبی تنازعات کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔انڈونیشیا کے سیاسی، قانونی اور سلامتی کے امور کے رابطہ کار وزیر ڈاکٹر محمد محفود نے یہ بات انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ ہندوستان اور انڈونیشیا میں بین المذاہب امن اور سماجی ہم آہنگی کے کلچر کو تیز کرنے میں علمائے کرام کا کردار کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کہی۔ اس سیمینار میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر محمود مدنی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد محفوظ کے اس بیان پر فوری ردعمل میں محمود مدنی نے کہا کہ ہندوستان میں بھی علمائے کرام فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے بہت کام کر رہے ہیں۔حال ہی میں جمعیۃ علما کی جانب سے ملک کے کئی شہروں میں بین المذاہب سیمینارز بھی منعقد کیے گئے۔ایسا پروگرام آل انڈیا صوفی کونسل نے بھی منعقد کیا تھا۔ محمود مدنی نے کہا کہ اگر حکومت ہند انڈونیشیا کی طرح ملک کی ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے پالیسیاں بنانے میں علمائے کرام کی مدد لیتی ہے تو علمائے کرام پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ انڈونیشیا میں اس سمت میں اور کیا کام ہو رہا ہے۔ اگر ایسا کچھ ہو رہا ہے تو یہ واقعی قابل تعریف ہے۔