کنٹائنمنٹ علاقوں کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائینگے : ڈی سی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:جن علاقوں میں کورونا کے معاملے 10 سے زیادہ سامنے آتے ہیں تو ان علاقوں کو کنٹائنمنٹ زون کے طور پر شناخت کیا جانا چاہئے اوران علاقوںمیں مقامیوں کی نقل وحمل پر مکمل پابندی لگائی جائے۔اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار نے دی ہے۔ انہوں نے جمعرات کوتعلقہ سطح کے عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ بات کرتے ہوئے کوروناپر قابو پانے کیلئےکئے جانے والےاقدامات کا جائزہ لیااور بتایا کہ کنٹائنمنٹ زون علاقوں میںہر دن آشا کارکنان کوگھرگھر جاکرصحت کی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے۔ کورونا کے علامات دکھائی دینے والے ہر شخص کا معائنہ کروایا جائے، ان گھروں کیلئے ضروریات کا سامان انکے گھروں کی دہلیز تک پہنچانا ضروری ہے۔کنٹائنمنٹ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نگرانی کرنے کیلئے مختلف محکموں کے افسران کا تقرر کرنےکی بات کہی۔ مزید کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا ویڈیو یا تصویر نکال کر پولیس میں ایسے لوگوں کے خلاف شکایت کرنے پر آگاہ کیا۔ ریڈزون کی شناخت: دیہی حدودکےکچھ علاقوں میں کورونا کے معاملات تیزی سےبڑھنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ گائوں کے سرحدی علاقوں میں اس طرح کے واقعات پائے جارہے ہیں۔ایسے علاقوں کی شناخت کریںاور ریڈزون میں شامل کرتے ہوئے یہاں کوروناپر قابو پانےکیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ۔ ڈپٹی کمشنر نے تحصیلداروں کو ہدایت کی کہ ایسے علاقوں میں گاڑیوں کے ذریعہ کورونا کا معائنہ کیا جائے۔دیہی اور شہری علاقوں میں کورونا پازٹیو اشخاص کو ہوم آئیسولیشن کی اجازت دیئے بغیر کوویڈ کیئر سنٹر میں داخل کیا جانا چاہئے۔ نجی اسپتالوں اور کلینک میں کوروناکی علامت والے افراد کی تفصیلات لازمی طور پر حاصل کریں۔ جو لوگ مقررہ طور پر ایسی معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں توان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اسی طر ح سرکاری لائسنس حاصل کئے بغیر علاج کررہے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیاگیا ۔اس نشست میں ضلع پنچایت سی ای او ویشالی ،اڈیشنل ڈپٹی کمشنرانورادھا ، کارپوریشن کمشنر چدانند وٹارے ، پلاننگ ڈائریکٹر ناگیندر ہوناہلی ،محکمہ بہبودی صحت وخاندان کے افسر ڈاکٹر راجیش سرگی ہلی اور سمس ڈائریکٹر ڈاکٹر سدپا اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔