سرعام سزائے موت: افغان طالبان نے وعدہ خلافی کی: امریکہ

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
واشنگٹن: آہستہ آہستہ افغانستان میں طالبان اپنا رنگ دکھانے لگے ہیں ۔ اب واپسی کے بعد طالبان نے سرعام سزا دینے کا بھی آغاز کردیا ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکمرانوں کی جانب سے ایک ملزم کو سرعام سزائے موت دیے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے یہ پریشان کن ویڈیوز دیکھی ہیں جو حالیہ دنوں میں آن لائن گردش کر رہی ہیں۔‘ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان 1990 کی دہائی کے دوران اپنے جابرانہ اور قدامت پسندانہ رویے کی سمت واپس جانا چاہتے ہیں۔ یہ تب بھی تمام افغانوں کے عزت کے خلاف تھا یہ اب بھی تمام افغانوں کی عزت کے خلاف ہے۔ انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں۔ سرعام پھانسی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب افغانستان کے لیے امریکی نمائندے تھامس ویسٹ اور طالبان انتظامیہ کے وزیر دفاع ملا یعقوب کی ابوظبی میں ملاقات ہوئی ہے۔ تھامس ویسٹ کے مطابق اس ملاقات میں انہوں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں بدتر ہوتی انسانی حقوق کی صورت حال، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے غصب کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’ملک کا معاشی اور سماجی استحکام اور طالبان کی اندرونی اور بیرونی قانونی حیثیت کا انحصار ان کی جانب سے افغانستان کی ماؤں اور بیٹیوںسے کیے جانے والے سلوک پر ہے۔تاہم طالبان کہہ چکے ہیں وہ تمام شرعی قوانین کا نفاذ جاری رکھیں گے، جن میں سنگسار کیا جانا، کوڑے مارنا اور چوری پر ہاتھ کاٹنا بھی شامل ہے۔ گذشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ طالبان کی عوام کے سامنے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ جیسے اسلامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہم وطنوں کے سامنے عوامی سطح پر قصاص جیسے حکم کا اطلاق کریں۔