دہلی:۔سپریم کورٹ نے مسلم خواتین کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال کرنے کے مطالبے پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔عدالت نے یہ نوٹس خواتین کے قومی کمیشن (NCW) کی درخواست پر جاری کیا ہے۔ مسلم پرسنل لاء کے تحت لڑکی کی شادی بلوغت یا 15 سال کی عمر میں کی جا سکتی ہے۔خواتین کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ عصمت دری، POCSO ایکٹ جیسے معاملات میں 18 سال سے کم عمر کی تمام خواتین کو نابالغ سمجھا جاتا ہے، لیکن مسلم پرسنل لا کی وجہ سے اس کے نفاذ میں دشواری ہے۔ 17 اگست کو دہلی ہائی کورٹ نے 15 سالہ مسلم لڑکی اور 25 سالہ مسلم نوجوان کی شادی کو برقرار رکھا۔ اس معاملہ میں لڑکی کے اہل خانہ نے نوجوان کیخلاف عصمت دری اور پوکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا لیکن عدالت کے حکم کے بعد نوجوان کو راحت ملی۔ خواتین کے قومی کمیشن نے اپنی عرضی میں اس معاملہ کا حوالہ دیا ہے۔خواتین کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجداری قانون کی تمام شقیں تمام مذاہب کے لوگوں پر لاگو ہونی چاہئیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عام قوانین میں لڑکیوں کے بالغ ہونے اور شادی کرنے کی عمر 18 سال ہے۔ دیگر تمام مذاہب کے قوانین اس عمر میں شادی کی اجازت دیتے ہیں، لیکن مسلم پرسنل لا میں صورتحال مختلف ہے۔سینئر وکیل گیتا لوتھرا عدالت میں عرضی کی التجا کرنے کے لیے حاضر ہوئیں، لیکن ان کی طرف سے دلائل شروع کرنے سے پہلے ہی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ نے اس معاملے پر نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو جواب دینے کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا ہے۔قبل ازیں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ سے اسی طرح کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی۔ اس معاملے پر بھی سپریم کورٹ کی ایک اور بنچ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل میں دونوں مقدمات کی سماعت ایک ساتھ ہو سکتی ہے۔
