کارکلا:۔شری رام سینا کے بانی اور صدر پرمود متالک نے اُڈپی ضلع کے تعلقہ کارکلا کی بی جے پی میں یہ کہتے ہوئے آگ لگادی ہے کہ وہ انتخابی اکھاڑے میں اُتررہے ہیں۔ ان کی اُمیدواری کے اعلان کے ساتھ ہی کہا جارہا ہے کہ کانگریس اس آگ سے اپنی روٹیاں سینکنےکی کوشش میں ہے۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اُڈپی ضلع کے 5 ودھان سبھا حلقوں میں سے کارکلا کے سوا بقیہ چاروں حلقوں میں بی جے پی نئے امیدواروں کو میدان میں اتاررہی ہے، مگر کارکلا میں مجبوری کے چلتے بی جےپی سنیل کمار کو ہی ٹکٹ دے رہی ہے جس کو لے کر ہی بی جےپی کارکنوں میں ہی عدم اطمینان پایا جارہاہے۔اب جب کہ شری رام سینا کے پرمود متالک نےاچانک کارکلا سے میدان میں اترنےکا اعلان کیا ہے، بی جے پی میں بےاطمینانی کی کیفیت میں مبتلا لیڈران کو اپنی آواز اُٹھانے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ اسی موقع کو استعمال کرتےہوئے سنیل کمار کے خلاف باتیں گردش کررہی ہے اور اپنی آواز کوہائی کمانڈ تک پہنچانےکی کوشش میں ہیں۔اپنے زمانے میں سنگھ پریوار میں ہی پرورش پانے والے پرمود متالک ایک کٹر ہندووادی مانے جاتےہیں۔ سنگھ پریوار کی مختلف تنظیموں میں اپنی ساکھ نہیں بنی تو شری رام سینا کی بنیاد ڈالی۔ مسلمانوں کو گالی دینے کے نتیجے میں کانگریس حکومت نے ان پر کئی کیس جڑ دئیے ۔ جب ان کا کسی نے ساتھ نہیں دیا تو پرمود متالک نے بی جےپی والوں کو بھی گالی دینا شروع کیا۔نہ جانے ایسی کونسی وجہ تھی کہ پرمود متالک نے کارکلا سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سنیل کمار کے پسینے چھوٹنے لگے ہیں۔ کیونکہ سنیل کمار سے بیزار بی جےپی کارکنان پرمود متالک کے ساتھ گھومتے نظر آرہے ہیں۔ اجے کار میں منعقد ہ ایک جلسہ میں متالک نے سنیل کمار پر راست رشوت خوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سنیل کمار جیت دلانےوالے کارکنان کو بھول گئے ہیں اور غیر قانونی طورپر کرشراور بےنام جائیداد کرنےمیں مصروف ہیں۔ متالک نے مزید کہا کہ گائےکی رکشھا کرنےو الے کارکنان پر پولس نے جب کیس درج کیا تو ان گائے کی رکھنشا کرنے والوں کی حفاظت کرنےکے بجائے گائے کی چوری کرنےوالوں کی حفاظت کی ہے۔متالک نے یہ بھی کہا کہ ہندوتواکےنام پر فتح حاصل کرنےوالے ، اب ہندوتواکو اپنی سیاست کے لئے استعمال کررہے ہیں۔سنیل کمار کے اشتعال انگیز بیانا ت پر جئے جئے کار کرنےوالے بی جےپی کے کئی کارکنان ، اس وقت متالک کےساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ کارکلا میں ہونے والی اس اچانک تبدیلی سے سنیل کمار کافی پریشان نظر آرہے ہیں اور پرسوں بعد کارکلا میں انہوں نے بہت ہی جذباتی انداز میں بھاشن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری سیاسی پیدائش کارکلا میں ہوئی ہے اور موت بھی کارکلا میں ہی ہوگی۔ متالک پرپلٹ وار کرتےہوئےسنیل کمار نےکہا کہ کچھ لوگ موسم باراں کی بجلی کی طرح آکر چلےجاتے ہیں۔ یہ لوگ اچانک سامنے آتے ہیں اور جلد ہی ختم بھی ہوجاتے ہیں۔کارکلا میں متالک کا اچانک امیدوار بننے کے اعلان کئے جانے سے عوامی سطح پر چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔ متالک اور سنیل کمار کے درمیان ہونےو الی مقابلہ آرائی میں تیسرے امیدوار کو جیت دلانےکی کوششیں ہونے کا شبہ بھی جتایاگیا ہے اسی بات کو لےکر چند لوگوں نے کانگریس کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔متالک کے پیچھے اگر کانگریس کا ہاتھ ہے تو پھر کانگریس کی طرف سے کون امیدوار ہوگا؟ گذشتہ مرتبہ سنیل کمار کے خلاف مقابلہ آرائی کرنےو الے کلاس ون کانٹراکٹر اُدئیے کمار شٹی کانگریس کو چھوڑ کر سیاست سے ہی کنارہ کش ہوگئے ہیں۔سیاسی ہواؤں کا رخ کارکلا کے ہی سابق وزیر اعلیٰ ویرپا موئیلی کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ کیونکہ ویرپا موئیلی ، کارکلا میں نظر آتے ہوئے کانگریس کو دوبارہ مضبوط کرنے اور جیت دلانےکی باتیں کررہے ہیں۔ پچھلی بار ان کے بیٹے ہرشاموئیلی نے کارکلا سے ہی سیاست کا آغاز کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ٹکٹ نہیں ملاتھا۔ ہوسکتاہے اس مرتبہ مل جائے اسی حساب کتاب میں لگےہوئے ہیں۔ لیکن وہ خود بھی جانتےہیں کہ سنیل کمار کےخلاف جیت اتنی آسان نہیں ہے۔ سیاسی گلیاریوں میں کیا کچھ ہورہاہے وہ تو ہوتا رہےگا ۔ بتادیں کہ متالک کا مقابلہ سنیل کمار کو مات دے گا اور کانگریس جیت پائے گی اس طرح کے مباحث ہونے لگے ہیں۔
