بہار: زہریلی شراب سانحہ میں 60 سے زیادہ کی موت

سلائیڈر نیشنل نیوز
بیگو سرائے : شراب بندی والے بہار میں لگاتار زہریلی شراب پینے سے موت کا سلسلہ جاری ہے ۔ 60 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ سیوان ضلع سے بھی پانچ اموات کی خبر آئی ہے ۔ اسی سلسلہ میں آج بیگو سرائے میں بھی ایک واقعہ سامنے آیا، جس میں اہل خانہ کے ذریعہ زہریلی شراب پینے سے ایک نوجوان کی موت کی بات کہی جارہی ہے ۔ وہیں دوسرے نوجوان کی بھی حالت سنگین ہے اور زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ اس کا علاج پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں کیا جارہا ہے ۔ یہ معاملہ تگھڑا تھانہ علاقہ کے پرانی بازار وارڈ 24 کا بتایا جارہا ہے ۔ مرنے والے شخص کی شناخت چندر کمار پودار کے بیٹے گھنشیام پودار کے طور پر ہوئی ہے جبکہ بیمار نوجوان کی پہچان وپن پودار کے بیٹے سندیپ پودار کے طور ہوئی ہے ۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بدھ کو دونوں نوجوانوں نے ایک ساتھ شراب پی تھی، جس کے بعد دونوں کی حالت بگڑنے لگی ۔ فورا انہیں علاج کیلئے پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں بھرتی کرایا گیا ، جہاں علاج کے دوران ہی گھنشیام کی موت ہوگئی۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ پولیس کی لاپروائی سامنے آرہی ہے ۔ مرنے والے کے والد چندر کمار کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی گھنشیام کی لاش کو جلا بھی دیا گیا ۔ مرنے والی کی بہن کا کہنا ہے کہ آخر ایسا کیسے ہوا کہ پولیس کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی، یا پھر پولیس کے ذریعہ معاملات کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس سلسلہ میں بیگو سرائے کے ایس پی یوگیندر کمار نے کہا کہ نوجوانوں کے ذریعہ کسی کیمیل مادہ کا استعمال کیا گیا تھا، جس کی جانچ فارینسک لیب میں کروانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اب فارینسک جانچ کے بعد ہی واضح ہو پائے گا کہ آخر نوجوانوں نے زہریلی شراب یا کسی دیگر چیز کا استعمال کیا تھا ۔