شیموگہ:۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی(این ای پی) کاجاری کرتے ہوئےمرکزی وریاستی حکومتیں تعلیمی نظام کو بربادکررہی ہیں،اس پالیسی کے خلاف آج این ایس یو آئی کےکارکنوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا ہے ۔ شہرکے سائنس میدان سے ہزاروں کی تعدادمیں جلوس کی شکل میں نکلنے والے طلباء نے درگاہ سرکل پہنچے۔اس موقع پراحتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ایس پی دنیش نے کہاکہ مرکزی حکومت نے کسی بھی طرح کی پیشگی تیاری نہ کرتے ہوئے این ای پی کو رائج کیاہے ،جس سے طلباء کو بڑےپیمانے پر مشکلات کاسامنا کرنا پڑ ر ہا ہے ، مرکزی وریاستی حکومت کے اس تعلیمی پالیسی سے طلباء کو غیر ضروری مشکلات اور دبائومیں تعلیم حاصل کرنا پڑرہا ہے ۔ این ای پی کی وجہ سے اہم مسئلہ امتحان نتائج میں تاخیر کاہورہاہے،سالانہ فیس میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہواہے،جبکہ پرائمری وہائی اسکول کے طلباء کیلئے بائیسکل کی تقسیم نہیں ہوئی ہے جبکہ دیہی علاقوں کے طلباء کیلئے بس کی سہولت نہیں دی گئی ہے۔ڈگرکے طلباء کو لیاب ٹاپ نہیں دیاجبکہ بس پاس کی بھی سہولت ختم کردی گئی ہے ۔ کوئمپو یونیورسٹی کے ڈسٹنس ایجوکیشن سسٹم میں نقل نویسی عام ہوچکی ہے،پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلباء کو اسکالرشپ ختم کردیاگیاہے یہ افسوسناک بات ہے۔احتجاجیوں نے اس کے بعد ڈپٹی کمشنر دفتر ڈپٹی کمشنرکے ذریعے صدرِ ہندکو میمورنڈم پیش کیا۔اس موقع پر روی،توفیق،گوتم،ابھی،وشال وغیرہ موجودتھے۔
