شیموگہ:۔مسلمان اپنے وجودکوبچانے کیلئے سیاسی طاقت بنائیں اور اپنی قیادت کی سودے بازی نہ کریں،جب تک مسلمان سیاسی حلقوں میں اپنے قائدین کو ترجیح نہیں دینگے اُس وقت تک دوسری قومیں مسلمانوں کااستحصال کرینگی۔اس بات کااظہار ضلع کانگریس کے نائب صدر اور سماجی کارکن مختاراحمدنے کیا ہے ۔ انہوں نے یہاں مختلف مساجدکے ذمہ داروں اور اہم شخصیات کے ساتھ خصوصی نشست کااہتمام کرتے ہوئے کہاکہ آج25-20 فیصد والی قومیں60 فیصد والے مسلمانوں پر اپنا دبائو برقراررکھنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ60 فیصد آبادی والے مسلمان دوسروں کو اپنا قائد بناکر اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔اگر آنےوالے دنوں میں بھی اسی طرح کارویہ برقرار رہے گا تویقیناً مسلمانوں کے سیاسی وجود کو ختم کرنے کیلئے ایک پلاٹ فارم بن جائیگا۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے اہم مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے ووٹوں کی سودے بازی کررہے ہیں اور مسلمانوں کودکھاکر اپنا اُلو سیدھا کررہے ہیں۔کوئی یہ کہتاہے کہ میرے ماتحت اتنے ہزار ووٹ ہیں تو کوئی یہ کہہ رہاہے کہ اتنی مسجدیں میری بات مانتی ہیں،یہ سراسر سودے بازی ہے،ایسےسوداگروں سے لوگ دوری اختیارکریں۔مزید انہوں نے کہاکہ آج مسلمانوں کے اہم مسائل پر سوال اٹھانےوالا کوئی نہیں ہے،این آر سی ،سی اے اے اور اذان جیسے معاملات پر آوازاٹھانے کیلئے ایم ایل اے ،ایم پی کے عہدوں پر فائز مسلمانوں کی کمی ہے،ایسے میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حکمت اپناتے ہوئے دوسروں کے سامنے چند روپئے مانگنے کے بجائے ان مسائل پر گفتگوکرنے کی شرط عائدکریں۔مختاراحمد کی طرف سے بلائی گئی اس نشست میں شیموگہ شہرکے اشوک نگر ، ملگھٹہ،ٹیپونگر،تنگانگر،جے پی نگر،انّا نگرکے مساجدکے ذمہ داران اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔اس دوران ان علاقوں فلاح وبہبودی کے کاموں کوانجام دینے کیلئے کمیٹی کی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی لیاگیا۔اس موقع پر سماجی کارکن افسرپاشاہ نے کہاکہ اس وقت مسلم نوجوانوں کی بے راہ روی کی وجہ سے ان علاقوں کا نام بدنام ہورہاہے،یہاں پر غلط کام کرنے والے نوجوانوں کو صحیح راہ پر لانے کیلئے کام کرنے کی اشدضرورت ہے ،اس کیلئے تمام لوگوں کا متحد ہوناضروری ہے۔انہوں نے افسوس ظاہرکیاہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں غیروں کا غلبہ ہے۔سماجی کارکن وجے ڈی ایس کے سینئرلیڈر ایس ایس الطاف نے اپنی تجویز دیتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو نشے کی عادت سے دورکرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،اس پر بھی کام ہونا چا ہیے ۔ کانگریس کے نوجوان لیڈرآصف شریف نے کہاکہ سارے شہرکے مسلمانوں کا ٹھیکہ چند لوگ لے چکے ہیں اور مسلمانوں کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کے بجائے اپنی سہولت کیلئے مسلمانوں کا استعمال کررہے ہیں۔آج مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بھی لیڈرشپ کو مضبوط کریں۔اس موقع پر دیگر مساجدکے ذمہ داران نے بھی اپنے رائے کااظہارکیااور جلدہی ان علاقوں کیلئے ایک اجتماعی تنظیم بنانے کا فیصلہ لیاہے۔
