لندن:۔ورلڈ بینک نے سالانہ جائزے میں کہا ہے کہ 2022 غیر یقینی صورتحال کا سال رہا ہے جس میں تعلیمی نقصانات، عالمی مہنگائی، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور دیگر عالمی چیلنجز ہیں جو یاد دلاتے ہیں کہ کورونا وبا کے اثرات بدستور برقرار ہیں۔رپورٹ کے مطابق قدرتی خطرات کی شدت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کے سماجی اور اقتصادی اثرات کو نمایاں کرتا رہتا ہے، 2022 میں وبائی امراض کے بعد کی دنیا میں ماحالیاتی تبدیلی کے اثرات بدتر ہوتے گئے، پاکستان میں شدید سیلاب نے سینکڑوں جانیں لے لیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، چین اور افریقہ میں خشک سالی نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا، یورپ نے بھی شدید گرمی کی لہریں اور 500 برسوں کی بدترین خشک سالی دیکھی۔2022 کے دوران دنیا کو معاشی بحالی کی غیر مستحکم اور غیر مساوی صورتحال میں عالمی سطح پر ترقی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا، سست شرح نمو نے عالمی سطح پر انسداد غربت پر پیشرفت کو تبدیل کرنے اور عالمی قرضوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔عالمی سطح پر ویکسی نیشن کی کوششوں نے ممالک کو وبا سے نمٹنے میں مدد کی اور لاکھوں بچوں کو واپس تعلیمی اداروں تک پہنچایا، لیکن سیکھنے کے عمل کو پہنچنے والے نقصانات کے دیرپا اثرات برسوں تک رہ سکتے ہیں۔سال بھر غذائی قیمتوں اور غذائی عدم تحفظ میں نمایاں اضافہ ہوا جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے بڑھ گیا، یہ عوامل خوراک، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے۔1970 میں کساد بازاری کے بعد عالمی معیشت اب سب سے زیادہ سست روی کا شکار ہے، عالمی سطح پر صارفین کا اعتماد گزشتہ عالمی کساد بازاری کے مقابلے میں اس وقت بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔دنیا کی 3 بڑی معیشتیں تیزی سے سست روی کا شکار ہیں، ان حالات میں آئندہ برس عالمی معیشت کی معتدل صوتحال بھی اسے کساد بازاری کی جانب لے جاسکتی ہے۔
