دہلی:۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں مہنگائی مکمل طور پر ایندھن اور کھاد کی قیمتوں کی وجہ سے ہے جو کہ خالصتاً بیرونی عنصر ہے۔ راجیہ سبھا میں گرانٹس کے ضمنی مطالبات پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ تھوک مہنگائی کی شرح 21 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ نومبر میں خوردہ مہنگائی کی شرح 5.88 فیصد پر آگئی ہے۔راجیہ سبھا نے گرانٹس کے ضمنی مطالبات لوک سبھا کو واپس بھیج دیئے ہیں۔ جس کے بعد حکومت موجودہ مالی سال میں اضافی 3.25 لاکھ کروڑ روپے خرچ کر سکے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ضمنی مطالبہ ملک میں غذائی تحفظ، کسانوں کو خوراک فراہم کرنے اور ہندوستانی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں زبردست اضافہ سے حکومت کو اضافی اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ مارچ 2022 تک بینکوں کا این پی اے 6 سالوں میں 5.9 فیصد کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے اثرات کے باوجود حکومت کی کوششوں سے کساد بازاری میں گئے بغیر معیشت کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایل آئی جیسی پالیسیوں نے نجی سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد کی ہے۔گرانٹس کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب مختص ایکٹ کے ذریعے پہلے سے منظور شدہ رقم موجودہ مالی سال کے لیے کسی خاص سروس کے لیے کم پڑ جائے۔ مالی سال کے اختتام سے پہلے حکومت اس گرانٹ کو ایک بل کے ذریعے پارلیمنٹ میں لاتی ہے اور اسے ایوان سے منظور کرواتی ہے۔ یعنی اضافی اخراجات کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لی جاتی ہے۔ اس بار حکومت 3.25 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی اخراجات کے لیے گرانٹ کی اضافی مانگ لے کر آئی ہے۔
