شیموگہ:۔شیموگہ اسمبلی حلقے سے کانگریس کی ٹکٹ مانگنے والے جملہ11 دعویداروں میں قریب پانچ دعویدارمیدانِ الیکشن کی تیاری میں لگ چکے ہیں اور اپنے اپنے طورپرلوگوں میں شناخت بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کہیں ہیلتھ کیمپ کا انعقاد کیاجارہاہے تو کہیں پوجاپاٹھ کا اہتمام ہواہے،جبکہ کانگریس کےمریپا نے توسیگے ہٹی میں نئے مندرکی تعمیرکیلئے پُر زور حمایت کی ہے تو وہیں یوگیش نے بھی اپنے مذہبی کارروائیوں سےلوگوں کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں،وہیں کے بی پرسننا کمار نے بھی میگان اسپتال کے مندرکو بحال رکھنے کیلئے احتجاج کرتے ہوئے ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کیا ہے ۔ لیکن شیموگہ اسمبلی حلقے سے کانگریس کی ٹکٹ کا دعویٰ کرنے والے اڈوکیٹ نیاز احمدخان اور لےآئوٹ امتیاز خان دونوں ہی سائلنٹ نظرآرہے ہیں۔حالانکہ شیموگہ اسمبلی حلقے میں 60 ہزارکے قریب مسلم ووٹران ہیں اور ان ووٹروں کی بنیادپر ہی کانگریس کا ہر امیدوارجیتنے کی اُمید کررہا ہے ۔مگر مسلم قوم سے جڑے ہوئے امیدوارہی نہ اپنی قوم میں چرچا کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں نہ ہی اپنے وجودکو پیش کرنے کیلئےلوگوں کے درمیان پہنچ رہے ہیں۔دونوں ہی دعویداروں کو شیموگہ کے مسلم سماج کاایک حصہ ہی پہچانتا ہے جبکہ مزید شناخت بنانے کی ضرورت ہے،لیکن ایساکچھ بھی نہیں ہورہاہے۔ اگر دونوں دعویداروں کی یہی رفتار ہے گی توانہیں ٹکٹ ملناتودوران کا نام کے پی سی سی کے حتمی فہرست میں جانا بھی مشکل ہوجائیگا ۔ انجان،بیگانے اور نامعلوم کانگریس کے دعویداراپنی شناخت بنانے کیلئے پچھلے کچھ دنوں سے ہرہفتے دوتین دن میڈیاکے سامنے آکر کسی نہ کسی مدعے پر بات کررہے ہیں،لیکن مسلمانوں کے درجنوں مسائل ہونے کے باوجود ٹکٹ کے دعویدار خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔اگر یہی خاموشی رہے گی تویہ لوگ کن مدعوں کو لیکر آگےمسلمانوں کی قیادت کرینگے یہ سوال اٹھ رہاہے؟۔
