فروری میں بجٹ پیش کیاجائیگا،وقت سے پہلے الیکشن نہیں;  درگاہ کو شہید کرنے سے مجھے دُکھ ہوا ہے:وزیر اعلیٰ بومئی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔فروری میں ریاست کا بجٹ پیش کیا جائیگا،اس کیلئے محکمہ مالیات سے دو مرحلوں میں نشست کا انعقاد کیا گیا ہے ۔تمام محکموں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ،بجٹ کے تعلق سے جنوری سے ہی تیاریاں شروع ہوجائینگی ، انہوں نے بتایا کہ پیرکی شام کو وہ دہلی روانہ ہورہے ہیں ، وہاں پر مختلف ترقیاتی کاموں کے تعلق سے تبادلہ خیال کیاجائیگا،ساتھ ہی ساتھ مختلف سیاسی امورپربھی روشنی ڈالی جائیگی اور انتخابات کےتعلق سے بات چیت کی جائیگی۔مزید انہوں نے بتایاکہ ریاست میں قبل از وقت انتخابات نہیں ہونگے۔اس سےقبل وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نےآج ہبلی میں مہندم کی گئی درگاہ حضرت محمودشاہ قادری کا معائنہ کیا۔اس دوران انہوں نے انجمن کے ذمہ داروں اور مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ شہروں میں توسیع ہورہی ہے،لوگوں کی ضرورتیں بڑھ رہی ہیں،اس کے علاوہ سڑکوں کی توسیع وقت کی اشد ضرورت ہے،ہبلی کے اس شاہراکی توسیع کے دوران جملہ13 مندروں،مسجدوں اور دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کیاگیا ہے،ان مذہبی مقامات کو منہدم کرنے سے شدید دُکھ پہنچاہے،لیکن یہ وقت کا تقاضہ ہے۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی آج صبح یہاں کےبھئیری دیورکوپہ درگاہ کامعائنہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بھی بات کی، اور انہوں نے کہاکہ درگاہ کو منہدم کرنے کیلئے انجمن کے نمائندوں اور دیگر ذمہ داروں نے انتظامیہ کابھر پور ساتھ دیا،اس کیلئے میں اُن کا شکریہ اداکرتاہوں۔درگاہ کو منہدم کیاجاچکاہے اور مقبرے کو منتقل کیاگیاہے،نئے سرے سےدرگاہ کی تعمیر کیلئے میں نے ذمہ داروں سے بات کی ہے اور اس کیلئے جو تعائون کرناہے وہ کرینگے۔سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق درگاہ کو منتقل کیاگیاہے،اس کےعلاوہ ہائی کورٹ نے بھی ا س تعلق سے ہدایت دی تھی،عوام کی سہولت کے مطابق یہ انہدامی کارروائی کی گئی ہے ۔ مذہبی مقامات کو منہدم کرنے سے مجھے شدید تکلیف پہنچی ہے ۔اس موقع پر انجمن کے نمائندے موجودتھے۔