دہلی: جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ منگل (3 جنوری) کو اتر پردیش میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوئے۔ راہل کے ساتھ ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ(RAW) کے سابق سربراہ اے ایس دلت بھی تھے۔ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا3 جنوری 2023کی صبح دہلی سے اتر پردیش پہنچی، جس میں راہل گاندھی کے ساتھ پارٹی کے کئی سینئر لیڈر اورکارکنان شامل تھے۔ بھارت جوڑو یاترا دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب جمنا بازار سے صبح 10 بجے روانہ ہوئی اور دوپہر کو اتر پردیش کے لونی (غازی آباد) پہنچی۔خیال رہے کہ ‘بھارت جوڑو یاتراگذشتہ برس 7 ستمبر 2022 کو کنیا کماری سے شروع ہوئی اور 24 دسمبر2022 کو دہلی پہنچی تھی۔ نو دن کے وقفے کے بعد آج پھر سے بھارت جوڑو یاترا شروع ہوئی ہے اور اتر پردیش کے بعد یاترا ہریانہ، پنجاب ہوتے ہوئے جموں و کشمیر پہنچے گی۔ کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے 3 جنوری کو بتایا تھا کہ یہ یاترا اتر پردیش میں 5 جنوری تک جاری رہے گی۔ 6 جنوری کو بھارت جوڑو یاترا ہریانہ میں داخل ہوگی جہاں یہ 10 جنوری تک رہے گی۔ اس کے بعد یاترا 11 جنوری کو پنجاب میں داخل ہوگی اور 19 جنوری کو ایک دن کے لیے ہماچل پردیش سے بھی گزریگی۔کے سی وینوگوپال کے مطابق 20 جنوری2023 کو یہ یاترا جموں و کشمیر میں داخل ہوگی۔ اس کے بعد 30 جنوری2023 کو راہل گاندھی سری نگر میں ترنگا لہرائیں گے اور یاترا وہیں ختم ہوگی۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو اپنے بڑے بھائی راہل گاندھی اور دیگر بھارت یاترا کا خیرمقدم کیا جب وہ بھارت جوڑو یاترا کے لیے اتر پردیش میں داخل ہوئے اور کہا کہ راہل نے سچائی کی بکتر پہن رکھی ہے جس کی وجہ سے بھگوان ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو کوئی نہیں خرید سکتا اور وہ سچائی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
