کم تنخواہ اور بغیر سہولیات کے زندگی گزارنا مشکل ہوگیاہے:سوشیلا بائی

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ:۔آنگن واڑی کارکنان کو مسائل کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔مسائل کوحل کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے مختلف طریقوں سے احتجاج کیا گیا ہے ۔ کرناٹکا راجیہ آنگن واڑی کارکنان اور اسسٹنٹ فیڈریشن (اے آئی ٹی یوسی)کی ذمہ دار خاتون سوشیلا بائی اور سنچالک رویندرساگرنے یہ بات کہی جمعرات کویہاں کے پریس بھون میں منعقد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اپنے مطالبات کومنوانے کے لئے 22دسمبر کوبلگاوی چلو تحریک چلائی گئی اس موقع پرریاستی وزیر ویمن اینڈ چایلیڈ ہالپا آچار نے منی آنگن واڑیوں میں پورے اوقات میں کام کرنے والے کارکنان کی تنخواہ میں دس ہزارروپئے اضافہ کرنے کاوعدہ کیاہے انہوں نے مزید کہاکہ کارکنان ہرطرح کام کرتے ہیں لیکن مستقل ملازمت کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے۔کب کیاہوجائے معلوم نہیں آنگن واڑی کارکنان ایک ایسی پریشانی میں مبتلا ہوگئے جو ختم ہونے کانام نہیں لے رہی ہے۔کم تنخواہ اور بغیر سہولیات کے زندگی گزارنا مشکل ہوگیاہے۔انہوں نے حکومت کے آگے کئی مطالبات کورکھتے ہوئے ان کوپورا کرنے کی مانگ کی گئی ہے آنگن واڑی کارکن اوراسسٹنٹ کی ملازمت کومستقل کرکے ماہانہ تنخواہ31500روپئے کئے جائیں ۔آنگن واڑی سنٹر میں ایل کے جی اور یوکے جی شروع کی جائیں۔آنگن واڑی کارکنان کومعلمہ کادرجہ دیاجائے اور بچوں کودوعدد یونفارم دیاجائے ۔ای ایس آئی کی سہولیات فراہم کی جائے ۔ ہرایک منی آنگن واڑی کے لئے ایک اسسٹنٹ کومقرر کیا جائے اور مفت میڈیکل سہولیات فراہم کی جائے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ اگر آنگن واڑی کارکنان کو ای ایس آئی اورد یگر سہولیات فراہم کرنے کی قانون میں گنجائش نہیں ہے قانون میں ترمیم لاکر سہولیات فراہم کریں ۔انہوں نے سوال کیاکہ آنگن واڑی کارکنان سے ہرطرح کاکام لینے کی قانون میں گنجائش ہے توکیا سہولیات فراہم کرنے میں گنجائش کیوں نہیں اس موقع پرویداوتی بھدراوتی۔ضلع صدر ویشالی۔ششی کلاگنپتی ہوسنگر،لیلاوتی اوردیگرذمہ دار موجودتھے۔