دہلی:۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں ججوں کے طور پر تقرری کے لیے کالجیم کی طرف سے تجویز کردہ ناموں کو منظوری دینے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہوقت پر عمل کرے گی۔مرکزی حکومت نے یہ یقین دہانی جسٹس سنجے کشن کول کی سربراہی والی بنچ کو دی۔ جسٹس سنجے کشن کول نے کہا کہ عام طور پر ہم میڈیا میں دیے گئے بیانات (وزیر قانون کے بیان کے حوالے سے) کا نوٹس نہیں لیتے ہیں لیکن سوال کالجیم کی سفارشات پر فیصلہ لینے کا ہے ۔ حکومت بروقت فیصلہ نہیں کرے گی تو سسٹم کیسے چلے گا۔سنٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (سی پی آئی ایل) کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کالجیم کی طرف سے دی گئی سفارشات کو مرکزی حکومت نے غیر معینہ مدت تک فیصلہ نہیں لیا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھ ہفتے گزرنے کے باوجود مرکزی حکومت ان سفارشات کا جواب بھی نہیں دیتی ہے۔ ملک کے اہم آئینی عہدوں کو طویل وقت تک خالی نہیں رکھا جا سکتا۔ حکومت ججوں کی تقرری میں سیاسی مداخلت چاہتی ہے۔سپریم کورٹ نے 8 دسمبر 2022 کو اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی سے کہا تھا کہ وہ کالجیمسسٹم پر تنقید کرتے ہوئے وزرا کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیں۔ ججوں کے انتخاب کا یہ نظام اس وقت ملک کا قانون ہے۔ حکومت کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ملک میں ہر کوئی یہ کہنا شروع کر دے گا کہ وہ کس قانون پر عمل کرنا چاہتا ہے اور کس پر نہیں۔سپریم کورٹ نے 28 نومبر 2022 کو اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل سے کہا تھا کہ آپ لوگ حکومت سے بات کریں اورکہیے کہ کالجیم کی جانب سے جن ناموں کی سفارش کی گئی ہے ، حکومت اس پر فیصلہ کرے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہاتھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت قومی عدالتی احتساب کمیشن (این جے اے سی) کو برخاست کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہے۔ اس لیے حکومت ججوں کی تقرری کے لیے کالجیم کی سفارشات پر کوئی فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔
