جنیوا:۔اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی امور کے محکمہ کے ذریعہ ’دی ورلڈ اکونومک سچویشن اینڈ پراسپکٹس 2023‘ عنوان سے جاری رپورٹ میں کہ اگیا ہے کہ 2023 میں گلوبل پروڈکشن 2022 میں ممکنہ 3 فیصد سے گھٹ کر 1.9 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو حال کی دہائیوں میں سب سے کم شرح ترقی میں سے ایک ہے۔اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے سنگین اور روایتی طور سے مضبوط جھٹکوں کی ایک سیریز کو فہرست بند کیا ہے جن میں کووڈ-19 وبا، یوکرین میں جنگ اور اس کے نتیجہ میں فوڈ و توانائی بحران، مہنگائی میں اضافہ، قرض میں کمی، ساتھ ہی 2023 میں گلوبل پروڈکشن اضافہ میں ممکنہ گراوٹ کے پیچھے ماحولیاتی ایمرجنسی شامل ہیں۔یہ رپورٹ مستقبل قریب کیلئےایک مایوس کن اور غیر یقینی معاشی نظریہ پیش کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’عالمی ترقی 2024 میں معمولی طور سے 2.7 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے، کیونکہ مشکل حالات میں کچھ بہتری ہونے لگے گی۔ حالانکہ یہ شدید مانیٹری سختی، یوکرین میں جنگ کے حالات اور نتائج پر منحصر ہے۔ آنے والے دنوں میں سپلایر سیریز میں رخنہ کا امکان ہے۔‘‘اقوام متحدہ جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیرس نے کہا کہ ’’یہ قلیل مدتی سوچ یا مالی کفایت شعاری کا وقت نہیں ہے، جو نابرابری اور تکلیف بڑھاتا ہے اور ایس ڈی جی کو پہنچ سے باہر کر سکتا ہے۔ یہ سخت وقت سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’اس کارروائی میں ایک انقلابی ایس ڈی جی حوصلہ افزائی پیکیج شامل ہے جو سبھی اسٹیک ہولڈرس کی اجتماعی اور ٹھوس کوششوں سے تیار ہوا ہے۔
