بد سے بدتر ہوچکے ہیں مدارس اسلامیہ کے معلمین کی حالت 

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
کیا اللہ کے بھروسے چھوڑ دیا گیا ہے علماء کو ذمہ داران مساجد نے ؟
شیموگہ :۔ کورونا کی بڑھتی ہوئی لہر اور لاک ڈائون کے سنگین حالات نے مدارس اسلامیہ میں درس و تدریس کی خدمات پر مامور علماء اور مکاتب میں خدمات انجام دینے والے معلمین کی معاشی حالت کو بدتر بنادیاہے اور علماء کا یہ طبقہ پہلے سے زیادہ مظلوم ہوچکاہے اور بعض کا تو کہناہے کہ ہمیں ہمارے ذمہ داروںنے تباہ و برباد کررکھاہے ۔ پچھلے سال لاک ڈائون کا اعلان ہوتے ہی کئی مدارس اسلامیہ سے جہاں طلباء کا انخلا ء ہوا تھا وہیں مدارس کے ذمہ دارجومدرسوں کو ہی دین کے قلعے قرار دیتے ہیں وہ اپنے مدرسوں سے دین کے قلعوں کے محافظوں کو اچانک برطرف کرتے ہوئے انکی زندگیوں  سے کھلواڑ کیا ہے جو آج بھی اپنے حال و مستقبل کو لے کر پریشان ہوچکے ہیں ۔ مساجد میں امامت کرنے والے علماء پھر بھی ایک لحاظ سے اپنے ماہانہ تنخواہوں کو لے بے فکر ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ مدرسوں کے معلمین اور مکاتب کے اساتذہ کا ہے جنہیںپچھلے ایک سال سے تنخواہوں سے محروم رکھا گیاہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ مدارس میں ان اساتذہ کو ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں بلکہ کم و بیش ہر مدرسے کے اکائونٹ میں لاکھوں روپئے موجودہیں جس پر یاتو کمیٹی کے احباب خزانے کا جن بن کر بیٹھے ہیں یا پھر مہتمم جو ایک طرح سے مدرسوں کے مالک بھی ہوتے ہیں وہ سانپ کی طرح اکائونٹ کو لپیٹ کر بیٹھے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جس قوم کی نسلوں کو دینی علوم سے آراستہ کرنے والے علماء اس وقت بیکا ر و بے یار ومددگار ہیں اس قوم کے مدرسے کیسے دین کے قلعے بن سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بھی کہا جارہاہے کہ ان علماء کو دینے کے لئے کام نہیں ہے اس لئے تنخواہ بھی دینا ممکن نہیں ہے اور بغیر کام کے اجرت لینے کی گنجائش دین میں نہیں ہے ، جبکہ یہ بات مدرسے کے مہتمم پر کیوں نہیں لاگو ہوتی ہے ؟۔ وہ مدرسے بند ہونے کے باوجود کیسے تنخواہ کا اندراج رجسٹر میں کرسکتاہے ۔ غورطلب بات یہ بھی ہے کہ اب قوم مسلم کے بیشتر مدرسے قوم کے نہیں رہے بلکہ یہاں سلطنت چلانے کا رواج شروع ہوچکا ہے یا پھر یہ بھی پرائیویٹ اسکولوں کی طرح پرائیویٹ مدرسے ہوچکے ہیں اور ان مدرسوں میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔ جو علماء اپنی زندگیاں مدارس کو آباد کرنے کے لئے لگارہے ہیں وہی علماء کو آج خود انکے مدرسے تنخواہیں دینے میں ٹال مٹول کررہے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر علماء درس و تدریس کا شعبہ چھوڑ کر دوسرے پیشوں سے منسلک ہورہے ہیں ، کوئی گھر گھر جاکر پانی فروخت کررہے ہیں تو کوئی بھاجی بیچ رہے ہیں ۔ کوئی درزی بننے کے لئے مجبور ہے تو کوئی ویلڈر بننے کے لئے لاچار ہے اور یہی قوم کہہ رہی ہے کہ علماء پیغمبر وں کی میراث ہے انکا احترام کرنا چاہئے ۔ ان سب کے درمیان وہ تنظیمیں بھی سوالات کے گھیرے میں آتے ہیں جو علماء کے نام پر تشکیل شدہ ہیں اور ملک بھر میں دوسروں کو انصاف دلانے کیلئے لاکھوں کروڑوں  روپیوں کا چندہ لے رہے ہیں ۔ جمیعت العلماء سے لے کر ریاستی سطح پر ہر مسلک و مکاتب فکر کے علماء کی تنظیمیں بجب خود اپنے ہی علماء کو سماجی انصاف دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں تو باقی امت کا کیسے بیڑا پار ہوگا؟۔ اسی طرح سے بچے کی پیدائش کے لئے اذان سے لے کر میت کے غسل تک کے لئے عالم کا استعمال کرنے والی قوم اپنے بچوںکے برتھ ڈے کے لئے ہزاروں روپئے خرچ کرنے ، ذومیاٹو سے پیزا برگر منگاکر کھانے کے لئے ہزاروں روپئے خر چ کرنے تیار ہے اور ہر ہفتے لاک ڈائون میں بھی باربی کیو پارٹی یا سیخ کباب پارٹیاں کرتے ہوئے  اپنے شاہی زندگی کا ثبوت پیش کررہے ہیں تو کیا وہ علماء کے لئے کچھ نہیں کرسکتے ؟۔ یہی سوال ان تنظیموں کے لئے بھی ہے جو گنگا جمنا تہذیب کاپرچم لہرانے کے لئے غیر مسلموں کی آئو بھگت کررہے ہیں اور اپنے علماء کو بھوت کی طرح بھگارہے ہیں یہ کیسا انصاف ہے ؟۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت کو کیا ہے وہ کہیں فاتحہ درود پڑھ لینگے یا قرآن خوانی کرکے کچھ پیسے کمالینگے ، لیکن کیا سب عالم کرسکتے ہیں ؟۔ اگر ہم اپنے علماء و حفاظ کا احترام نہیں کرتے ہیں تو اس قوم کو علماء کی ضرورت ہی نہیں ، گوگل سے ہی کام چلا لیں ۔ ہر شہر میں مالداروں کی کمی بھی نہیں ہے وہ بھی اس جانب نظر پھرانے سے کترارہے ہیں اور انہوںنے جو چندہ رمضان میں دے دیاہے اس سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ علماء کا انہوںنے حق ادا کردیا ہے لیکن انہوںنے رمضان میں جوزکوٰۃ نکالی تھی وہ علماء کی نہیں بلکہ ضرورت مند بچوں کے لیے زکوٰۃ تھی اور حقیقت میں علماء کو زکوٰۃ کا نہیں بلکہ تحفوں کو مستحق بنانے کی ضرورت ہے ۔