بابائے تعلیم ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی وفات پراجتماعی تعزیتی اجلاس
شکاری پور:۔گلشن زبیدہ شکاری پور میں جمعیۃ مدینۃ العلوم شکاری پور، زبیدہ للبنات شکاری پور، زبیدہ ایجوکیشنل ٹرسٹ شکاری پور، سعدیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ شرالکپّہ شکاری پور اور ایچ کے فاؤنڈیشن شکاری پور کی جانب سے اجتماعی طور پر حافظ کرناٹکی کی صدارت میں بابائے تعلیم ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی تعزیت میں ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا ۔ جلسے کا آغاز حافظ عارف اللہ مدنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ بابائے تعلیم اپنی ذات میں ایک زندہ جاوید تحریک تھے۔ اسی لیے الامین تحریک اس تیزی سے پھیلی اور لوگوں کے دلوں کی آواز بن گئی۔ انہوں نے کہا کہ الامین رتنا ڈاکٹر سبحان شریف جنرل سکریٹری الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کے نہایت بھروسے مند ستون ہیں۔ وہ بابائے تعلیم کے تربیت یافتہ ان کے ہر دل عزیز ساتھی اور دست راست ہیں۔ ان میں بابائے تعلیم کے منصوبوں، ارادوں، اور خواہشوں کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت ہے ۔ اس لیے یقین رکھنا چاہیے کہ بابائے تعلیم کے داغ مفارقت کے غم سے نڈھال بابائے تعلیم کے چاہنے والے ان خوابوں کو کبھی بے رنگ نہیں ہونے دیں گے۔جامعہ مدینۃ العلوم کے مہتمم مولانا محمد اظہرالدّین ازہر ندوی نے تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بابائے تعلیم کو ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے مضامین میں پڑھ کر، ان کی زبانی ان کے بارے میں سن کر بہت کچھ جان پایا اور جب وہ ایک خاص پروگرام کے موقع سے شکاری پور تشریف لائے تو ان کے بارے میں تفصیلات جان کر حیران رہ گیا کہ ہمارے درمیان اتنی اہم اور اتنی بڑی شخصیت موجود ہے۔ تب سے ان کے کاموں کی وجہ سے ان کا ادب، احترام اور عظمت میرے دل میں بڑھتی چلی گئی۔ ان کا انتقال امت کا بہت بڑا خسارہ ہے۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔اس کے بعد ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ؛ سر سید احمد خان نے جن نامساعد حالات میں ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیم و تعلم کا بیڑا اٹھایا تھا۔ اور انہیں جن مصائب کا سامنا کرناپڑا تھا۔ آزادی کے بعد بالکل ویسے ہی مایوس کن ماحول میں بابائے تعلیم نے قوم و ملت کی تعلیم و تعلم کا بیڑا اٹھایا۔ چوں کہ بابائے تعلیم ایک ماہر طبیب بھی تھے اس لیے انہوں نے قوم کی نبض پکڑ کر ان کی صحت و تندرستی کی خوبیوں اور خرابیوں کا اندازہ لگالیا۔ اور جان لیا کہ اس قوم کا علاج سوائے تعلیم کے اور کچھ نہیں ہے۔ اور پھر انہوں نے اپنے آپ کو قوم و ملت کی جدید نہج پر تعلیم و تعلم کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ریاست کرناٹک سے لے کر پورے ملک میں جو مسلمانوں کی تعلیم کے ادارے پھیلے ہیں یہ سب بابائے تعلیم کی محنت کا ثمر ہے۔ کیوں کہ لوگوں نے انہیں کے آہنی ارادوں سے حوصلہ پایا اور قدم آگے بڑھانے کے لائق بنے۔ بابائے تعلیم سچ مچ ہم سبھوں کے لیے پدری شفقت کی مثال تھے۔ انہوں نے ہم سب کو آبدیدہ کردیا ہے۔ اب یہ ہماری اور پورے قوم کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خوابوں کی تعبیر تلاشنے میں جٹ جائیںیہی ان کے لیے ہماری تعزیت ہوگی۔ایچ کے فاؤنڈیشن کے صدر فیاض احمد نے جذبات سے مغلوب آواز میں بابائے تعلیم کو یاد کیا اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا کرکے بیٹھ گئے۔مدینۃ العلوم کے اساتذہ مولانا عبدالرّقیب ، مولانا محبوب صاحبان نے بھی کہا کہ بابائے تعلیم کی شہرت دور دور تک پھیلی تھی۔ مولانا محبوب نے کہا کہ میں جب ندوۃ العلما لکھنؤ میں پڑھتا تھا تو وہاں بھی ان کے تذکرے سنتا تھا۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔زبیدہ پرائمری اسکول کے میر معلم سمیع اللہ اے جے نے بھی بابائے تعلیم کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے وصال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ابراہیم ندوی، حافظ ناصر ،انیس الرحمن ، انجینرمحمد شعیب ، ماسٹر سہیل ، ماسٹر عبدالعزیز، زبیدہ للبنات کے ذمہ دارعارف اللہ اورنذراللہ مڈی نے بھی اپنے اپنے تعزیتی کلمات اداکیے۔ حافظ سمیع اللہ عاقل نے بابائے تعلیم کی رحلت پر حافظ کرناٹکی کے لکھے مرثیے کے کئی بند غم انگیز لہجے میں پڑھ کر سنائے جس کی تاثیر سے محفل نہایت سوگوار ہوگئی ۔ مجلس کا اختتام گن میں وجے کمار کے شکریہ کے کلمات اور مولانا عبدالحفیظ ندوی کی پرسوز دعا سے ہوا۔
