سعودی عرب:ماضی میں پابندی کا شکارویلنٹا ئن ڈے اب جوڑوں اورتنہاافراد کیلئے کشش کا باعث

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
ریاض:۔سعودی عرب میں ویلن ٹائن ڈے سے قبل پھولوں کی دکانیں اور ریستوراں جوڑوں اور تنہا افراد کو خوب صورت گل دستوں اورخصوصی تیارکردہ مینو کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔ سات سال پہلے، محبت کرنے والوں کو اپنے تحائف کی منصوبہ بندی ہفتوں پہلے کرناپڑتی تھی تاکہ وہ نیکی کے فروغ اور برائی کی روک تھام کی کمیٹی کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچ سکیں ۔ کمیٹی نے ماضی میں سرخ گلاب کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی اور دکانوں کو 14 فروری تاریخ اور اس سے پہلے سْرخ رنگ کی اشیاء کی نمائش سے روک دیا تھا۔ماضی میں گل دستے اوردل کش اشیا خفیہ طور پر حیرت انگیز طورپرمہنگے داموں ان جوڑوں کو فروخت کی جاتی تھیں جو قیمت ادا کرنے کوتیارہوتے تھے۔لیکن چونکہ مملکت معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کانفاذ جاری رکھے ہوئے ہے ، اب شہری اوررہائشی ہر سال زیادہ سے زیادہ عوامی طور پرجشن منارہے ہیں۔ایک شہری یوسف موسیٰ نے بتایا کہ میری بیوی اور میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں۔ ہم گھر پر ویلن ٹائن ڈے مناتے تھے اور ایک ہفتہ پہلے ایک دوسرے کو چھوٹے چھوٹے تحائف خرید کر د یتے تھے۔ میں پھولوں کا آرڈر دیتا تھا، جن کی قیمت کئی دن پہلے دگنا ہو چکی ہوتی تھی۔ ’مگر اس سال، ہم ایک ساتھ ایک ریستوراں میں اچھے عشائیے سے لطف اندوزہونے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ عوامی سطح پراپنی محبت کا اظہار کرنا اچھا لگتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا۔ الریاض میں یونانی ریستوراں میراکی نے جوڑوں کو ‘پینیلوپ اور اوڈیسیئس کی محبت کی کہانی سے متاثر ہو کر رومانوی ڈنر پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔جدہ میں عالمی شہرت یافتہ جاپانی ریستوراں نوبو ایک لائیو ڈی جے کی میزبانی کریگا جس میں ان مہمانوں کے لیے موسیقی کا اہتمام کیا جائے گاجو خصوصی طور پر تیار کردہ مینو سے کھانا کھانا چاہتے ہیں۔مینا خطے میں آن لائن پھولوں اور تحائف کی ترسیل کی منزل فلوارڈ کے لیے ویلن ٹائن ڈے سال کا سب سے بڑا دن ہوتا ہے ۔ گذشتہ سال کمپنی کو مملکت میں ایک صارف کی جانب سے سب سے مہنگا آرڈر موصول ہوا تھا جو اس موقع پر پھولوں اور دیگر لوازمات کا 3,000 ڈالر کا بنڈل تحفے میں دینا چاہتا تھا۔ہر سال ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر فروخت میں دیگر دنوں اور مواقع کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔خیال رہے کہ ماضی کے سالوں میں مغرب سے دریافت ویلن ٹائن ڈے پر پابندی عائد تھی ، لیکن جب سے بن سلمان نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا ہے، تب سے نام نہاد اصلاحات کے نام پر فحاشی اور عریانیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو ہر مسلمان کے لیے بے چینی اور اضطراب کا باعث ہے۔