کرناٹک بجٹ24-2023:اعلانات سے بھرپور ،کسانوں اور خواتین کیلئے بھرپور منصوبوں کا اعلان

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
مسلمانوں کے قبرستانوں کو 10 کروڑ روپیوں کے سواء کچھ نہیں،پھر بھی306 کروڑ روپئے اقلیتوں کا بجٹ٭سرکاری کالجوں میں داخلہ لینےوالےطلباء کی فیس میں رعایت٭کسانوں کیلئے5 لاکھ روپئے تک غیر سودی قرضہ٭ طلباء اور برسرِ روزگارخواتین کو مفت بس پاس
بنگلورو:۔کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے آج سال24-2023 کے بجٹ کا اعلان کیاہے،اس بجٹ کو اپوزیشن جماعتیں الیکشن کا انتخابی منشور قرار دے رہے ہیں۔وہیں بی جے پی اسے عوام کے حق میں پیش کئے جانےوالابجٹ کہہ رہی ہے۔کرناٹکاکے سالانہ بجٹ میں اقلیتی طبقے کیلئے سوائے قبرستانوں کیلئے اور کسی خاص منصوبے کا اعلان نہیں کیاگیاہے،توقع کی جارہی تھی کہ اس دفعہ کم ازکم کرناٹکا اردو اکادمی کیلئے مخصوص بجٹ اور کے ایم ڈی سی کیلئے افزود بجٹ پیش کیا جائیگا،بجٹ میں اقلیتی ہاسٹلوں کو اپ گریڈ کرنے کی بات کہی گئی ہے،لیکن اسکالرشپ کے تعلق سے کوئی بات نہیں ہوئی،لیکن کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بومئی نے ایساکچھ خاص نہیں دیاہے،جس کی وجہ سےاقلیتی طبقہ مطمئن نہیں ہے۔۔وہیں دوسری جانب کرناٹکا حکومت نے اپنے بجٹ میں کسانوں کیلئے غیر سودی قرضہ کا اعلان کیاہے،قریب5 لاکھ روپئے تک کے قرضے کو کسان حاصل کرسکتے ہیں،اسی طرح سے خواتین کو ماہانہ 500 روپئے تک گرہنی شکتی منصوبے کے تحت مفت بس پاس دینے کا فیصلہ کیاگیاہے،اسی طرح سے غیر منظم شعبے کیلئےسی ایم بیمہ،سرکاری کالجوں کے طلباء کو رعایتی فیس کی اسکیم،سی ایم ودیا شکتی ،ٹیکسی رکشا چالکوں کو ودیا سری منصوبے کے تحت رعایت دینے کا فیصلہ سال24-2023 کے بجٹ میں لیاگیاہے۔آج وزیر اعلیٰ نے آج صبح15.10 بجے سے کرناٹک کے بجٹ کو پیش کرنا شروع کیاہے،جملہ 309182 کروڑ روپئے کی لاگت والے بجٹ کو پیش کیاگیا،آنےوالے اسمبلی انتخابات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ بومئی نے کسانوں،غریبوں،خواتین اور طلباء کو خوش کرنے کیلئے بھرپور منصوبوں کا اعلان کیاہے۔کسانوں کو بھوسری نامی منصوبے کا اعلان کیاگیاہے ،کاشتکاروں کو10 ہزار روپئے تک افزود مالی تعائون،کسانوں کیلئے ریئتا سری منصوبے کے تحت اناج کی پیداوارکرنےوالے کسانوں کو فی ہیکٹر10 ہزار روپئے کا مالی تعائون،ودیا واہنی منصوبےکے تحت طلباء کیلئے350 کروڑ روپئے کی لاگت سے مفت بس پاس کا اعلان کیاگیاہے،اسی طرح سے خواتین کیلئے گرہنی شکتی منصوبے کے تحت ماہانہ500 روپئے کی امداددینے کیلئے جملہ46 ہزار278 کروڑ روپئے کا بجٹ دیاگیاہے، جبکہ نمّانلے منصوبے کے تحت معاشی طورپر کمزور طبقے کیلئے سائٹ،سیہادری سری منصوبے کے تحت ساحلی علاقے ملناڈ اور نیم ملناڈ علاقے میں پانی کے تحفظ اور باغبانی کو فروغ دینے کیلئے ایک باغ ایک فصل منصوبے کے تحت10 کروڑ روپئے دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔سرکاری پی یو اور سرکاری ڈگری کالجوں میں داخلہ لینےوالے طلباء کی فیس پر مکمل رعایت،دیہاتوں میں تعلیم حاصل کرنےوالے کنڑامیڈیم کے طلباء کو سی ای ٹی کے ذریعے داخلہ لینےوالے سرکاری کوٹے 500 طلباء کی فیس مکمل طورپر حکومت اداکریگی۔ گھر گھر صحت منصوبے کے تحت دیہی علاقوں کے لوگوں کی صحت کیلئے ہیلتھ چیک اپ کیمپ اور میڈیکل سہولیات کو ڈیجیٹل کیاجائیگا،ان کی صحت کے تعلق سے تمام دستاویزات کو ڈیجیٹل کیاجائیگا،رائچورمیں ایمس کے طرز پر اسپتال اور کمٹہ میں سوپر اسپشالیٹی اسپتال تیارکی جائیگی۔وزیر اعلیٰ بومئی نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی رضاکاروں کے ریٹائرڈ منٹ کیلئے40 کروڑ روپئے،آشاکاریہ کرتا،مڈے میل بنانےوالی خواتین کی تنخواہ میں1000 روپیوں کا اضافہ کیاجائیگا،ڈیالیسس کیلئے 60 ہزار یونٹس بنائے جائینگے،ریاست میں 500 ششو ویہار بنائے جائینگے۔ اس بجٹ کے آغازمیں اپوزیشن نےخوب ہنگامہ آرائی کی،اپوزیشن جماعت کانگریس کے بیشتر اراکین نے بجٹ میں شرکت کرتے وقت اپنے کانوں پر پھول لگا اسمبلی میں داخل ہوئے،ان کا کہناتھاکہ حکومت اس بجٹ کے ذریعے سے عوام کے کانوں پر پھول لگا رہی ہے،اس لئے ہم ابھی سے کانوں پر پھول لگا کر اسمبلی پہنچے ہیں۔کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمارنے کہاکہ بجٹ میں کوئی خاص بات نہیں ہے،پچھلے بجٹ میں کئے گئے وعدے ہی پچاس فیصد پورے ہوئے ہیں،اس بجٹ سے اُمید لگانا بیکارہے،جبکہ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی نے کہاکہ انتخابات سے پہلے پیش کئے جانےوالے اس بجٹ میں کوئی خاص بات نہیں ہے،مئی کے مہینےمیں ہونےوالے انتخابات کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو بے وقوف بنایاجارہاہے۔اسی طرح سے کرناٹکا رئیتا سنگھا کے صدر ناگیندرانے کہاکہ یہ دور اندیشی والابجٹ نہیں ہے،کسانوں کیلئے پانچ لاکھ روپیوں کا جو قرضہ دیا جارہا ہے  ، یہ اچھی بات ہے،لیکن یہ محض13 فیصد کاشتکاروں کیلئے ہی کارگرہے،بقیہ87 فیصد کاشتکار اس سے استفادہ نہیں کرینگے۔اس بجٹ پر ویلفیرپارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حُسین نےاپنا ردِ عمل ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ یہ بجٹ سوائے انتخابی منشورکے علاوہ کچھ نہیں ہے،پچھلے بجٹ میں کئے گئے وعدے ہی پورے نہیں ہوئے ہیں،اب نئے وعدوں کو کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کیاجارہاہے،مہنگائی کو کم کرنے کے تعلق سے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔