ائیرپورٹ تو بن گیا،استعمال کیا؟

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ ضلع تاریخی ضلع ہے،کسی دور میں یہ ضلع کارخانوں اور فیکٹریوں کیلئے مشہور تھا،میسورو حکومت کے دوران یہاں لوہے کا کارخانہ بنایاگیاتھا جسے وی آئی ایس ایل کہاجاتاہے۔اس کارخانے میں ہزاروں لوگ برسرِ روزگار تھے،لیکن حکومتوں کی عدم توجہ سے یہ کارخانہ اب کم وبیش بندہوچکاہے۔اسی طرح سے ایک اور کارخانہ میسوروپیپرمل ہے جو دنیا کے مختلف ممالک کو کاغذ کی سپلائی کیاکرتاتھا،ان دو اہم کارخانوں کے علاوہ شیموگہ میں میسورو سیانڈل فیکٹری،میسورو شوگرس،میسورومیاچس فیکٹری یہاں کی صنعتی شناخت تھے۔اب یہ تمام کارخانے بندہوچکے ہیں۔اگر کچھ باقی ہے تو ان کارخانوں کے کھنڈرات ۔ایسے میں شیموگہ میں ایک وسیع ائیرپورٹ بنایاگیاہے،جس سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ آنےوالے دنوں میں شیموگہ ضلع کو ترقی ملے گی،مگر حکومتوں نے جن کارخانوں کو بندکیاہے اُن کارخانوں کی بازآبادکاری کیلئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے،ایسے میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ جب لوگوں کے آنے جانےکا کوئی مقصد ہی شیموگہ کیلئےنہیں ہے تو شیموگہ ہوائی اڈے کا فائدہ کیاہوگا؟اگر کسی وجہ سے اس ائیرپورٹ پرخدمات انجام دینے کیلئے ائیرلائنس تیارہوجاتے ہیں تو  ان ائیرلائنس کو مسافر کہاں سے ملے گیں؟۔دیگر کمپنیوں کی طرح شیموگہ کا آئی ٹی سیکٹر بھی بڑے پیمانے پرنہیں ہے،محدود آئی ٹی کمپنیاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔وہیں اگر عام مسافروں کی بات کہی جائے تو شیموگہ سے بنگلوروکیلئے ہوائی جہاز سے سفربھلے ہی80 منٹ کاہے ،لیکن بنگلورو پہنچنےوالے مسافروں کو بنگلورو شہرتک جانے کیلئے کم ازکم ایک گھنٹہ کا سفرکرنا پڑیگا،ا س کیلئے چیک ان کا وقت بھی مسافروں کیلئے بھاری پڑسکتاہے،جملہ شیموگہ سے بنگلوروجانے کیلئے مسافروں کو5.3 گھنٹوں کا وقت نکالناپڑیگا۔اس طرح سے عام مسافریہی سوچیں گے کہ اس سے بہتر ٹرین کا سفرہے جو پانچ گھنٹوں میں مکمل ہوجائیگا۔جملہ طورپر یہ ائیرپورٹ سیاستدانوں اور شوقیلے مسافروں کیلئے ہی استعمال میں آسکتاہے،عام مسافراس کا استعمال کرنانہیں چاہے گیں۔حالانکہ میسورو،ہبلی اور بلگام کے ائیرپورٹ پہلے ہی مسافروں کی کمی کی وجہ سے خسارے میں ہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ شیموگہ کا یہ ائیرپورٹ کس طرح سے فائدہ مندہوگا۔