بنگلورو:۔ کرناٹکا کے اسمبلی الیکشن کی گرما گرمی میں اچانک بی جے پی کو اپوزیشن کے سامنے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندرا مودی کے منڈیا دورے کے موقع پر ملیکا ارجن عرف فائٹر روی نامی ایک بدنام زمانہ راوڈی شیٹر کو وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے پایا گیا ۔ راوڈی شیٹر روی اور وزیر اعظم نریندرا مودی ایک دوسرے کو ہاتھ جوڑ کر سلام کرتا ہوا فوٹو وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن نے بی جے پی اور وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔کانگریس پارٹی نے سخت ترین تبصرہ کرتے ہوئے کہا : ” بی جے پی جیسی بے شرم پارٹی پوری دنیا میں نہیں ہے ۔ وزیر اعظم فائٹر روی کے سامنے پورے احترام کے ساتھ ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں ۔ اس سے وزیر اعظم کے عہدے کی ہتک ہوئی ہے ۔ جو پارٹی کہہ رہی ہے کہ وہ راوڈی شیٹرس کو پارٹی میں شامل نہیں کرے گی ، اسی نے اب بے شرمی کے ساتھ وزیر اعظم کو راوڈی شیٹر کے سامنے کھڑا کیا ہے ۔یاد رہے کہ فائٹر روی نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے اور الیکشن لڑنے کے لئے ناگمنگلا حلقہ سے پارٹی امیدوار بننے کا خواہشمند ہے ۔ روی کہتا ہے کہ بی جے پی میں شمولیت کے لئے اسے پارٹی کی طرف سے ہی دعوت ملی تھی جبکہ روی کے ایک قریبی ذریعہ نے بتایا کہ روی نے سب سے پہلے جنتا دل میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی مگر وہاں بات نہیں بنی اس لئے وہ بی جے پی کی طرف سے ٹکٹ کا تیقن ملنے کے بعد پارٹی میں شامل ہوگیا ۔حالانکہ ملیکا ارجن عرف روی پر کرکٹ بیٹنگ، منی لانڈرنگ اور دوسرے معاملات میں بہت سارے مقدمات درج تھے مگر بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں سے اپنے تعلقات کی وجہ سے وہ گرفتاری سے بچتا رہا ۔ اب روی کا دعویٰ ہے کہ اس پر کوئی کیس نہیں ہے اور وہ ہسٹری شیٹر کی فہرست میں شامل نہیں ہے ۔ فائٹر روی نے کہا : ” وزیر اعظم کا استقبال کرنے کا یہ موقع بی جے پی نے مجھے فراہم کیا اور یہ میری زندگی کا قابل فخر لمحہ تھا ۔ حالانکہ مجھ پر دائر تمام مقدمات ختم کیے گئے ہیں ، مگر کچھ لوگ میری شبیہ بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔بی جے پی کے ریاستی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ کے خواہشمندوں کو بنگلورو- میسورو ایکسپریس وے کے افتتاحی پروگرام کے موقع پر وزیر اعظم کے پروگرام میں شرکت کے لئے اپنے علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو لانے کا کام سونپا گیا تھا اور روی نے کئی موٹر گاڑیوں پر بہت سارے لوگوں کو لانے کا انتظام کیا تھا ۔ ادھر اس معاملہ میں وزیر اعظم کے دفاع میں وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے تاویل پیش کرتے ہوئے کہا : "وزیر اعظم کو اس بات کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے کہ فائٹر روی کون ہے ۔کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم براہ راست طنز کرتے ہوئے کہا :” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سروا گیانی جوسارے جہاں کی معلومات رکھتا ہے اسے فائٹر روی کے تعلق سے کوئی علم ہی نہیں ہے ؟ کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ وزیر اعظم کو ان کا استقبال کرنے والوں کے تعلق سے پیشگی معلومات دی جاتی ہے ۔ بی جے پی کے معتبر ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق پارٹی کے اعلیٰ سطحی لیڈر اس معاملہ پر بہت زیادہ پریشان ہوگئے ہیں اور ریاستی لیڈران سے اس کی مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ ایک متنازعہ فرد کو وزیر اعظم کا استقبال کرنے کی اجازت دینے اور پارٹی کے لئے شرمندگی کا موقع سامنے لانے پر پارٹی اعلیٰ کمان نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔
