ٹویٹر کو حکومت نے دی آخری وارننگ، کہا قواعد مانیں نہیں تو نتائج کیلئے رہیں تیار

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔ ٹویٹر اور مرکزی حکومت کے مابین جاری تنازعہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر کو حتمی انتباہ دیا ہے کہ نئے ڈیجیٹل قواعد کو فوری طور پر نافذ کریںبصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل ٹویٹر نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سمیت تین بڑے رہنماؤں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو ’ان ویری فائیڈ کردیا تھا ۔ اس کے علاوہ صدر ایم وینکیا نائیڈو کے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی ’بلو ٹک ‘ ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم بعدازاں نائب صدر کے اکائونٹ کا ’بلو ٹک بحال کردیا گیا۔ وزارت آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کے گروپ کوآرڈنیٹر راکیش مہیشوری کے 5 جون کو ٹویٹر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ٹویٹر کے خط میں نہ تو نئے ڈیجیٹل قواعد کے نفاذ کے بارے میں کوئی وضاحت دی گئی ہے اور نہ ہی ان کو نافذکیا گیا ہے۔وزارت نے نئے ڈیجیٹل قواعد پر 26 مئی 2021 ء اور 28 مئی 2021 ء کے خطوط کی روشنی میں لکھا ہے کہ ٹویٹر نے آج تک تعمیل آفیسر، شکایات کے ازالے کے افسر اور نوڈل آفیسر کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ٹویٹر کے دفتر کا پتہ بھی ایک قانونی فرم کا ہے، جو قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ وزارت نے اپنے خط میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ٹویٹر نئے ڈیجیٹل قوانین کی تعمیل نہیں کرتا ہے تو پھر آئی ٹی ایکٹ 2000 کی دفعہ 79 کے تحت انٹر میڈیئری کی قانونی حیثیت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام جو ٹویٹر استعمال کرتے ہیں انہیں صاف وشفاف میکانزم کا حق ہے تاکہ ان کی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔